شامی اپوزیشن فورسز کی تربیت طویل المیعاد پروگرام ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا نے کہا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح تحریک چلانے والے اعتدال پسند باغی گروپوں کی عسکری تربیت چند دنوں کا کام نہیں بلکہ یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے جس میں کئی سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" کے مطابق شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم "دولت اسلامی" داعش کے خلاف عالمی اتحادی فوج کے مشترکہ آپریشن کے انچارج جنرل ریٹائرڈ جون ایلن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شامی اپوزیشن کو عسکری تربیت دینے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

جنرل ایلن جو ماضی میں عراق اور افغانستان کی جنگی اہم محاذوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں نے" سی این این" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ شامی اپوزیشن کے اعتدال پسند عسکری گروپوں کی تربیت شروع کر دی گئی ہے تاہم یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ ہو گا جس میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی کانگریس نے شام کی اعتدال پسند عسکری قوتوں کو تربیت فرہم کرنے اور اُنہیں مسلح کرنے کے ایک بل کی منظوری دی تھی۔ یہ بل صدر باراک اوباما کی جانب سے کانگریس کو بھیجا گیا تھا۔ قبل ازیں کانگریس نے شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی کے خلاف فوجی کارروائی کی بھی اجازت دے چکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل ایلن کا کہنا تھا کہ شامی اپوزیشن کی مسلح فورسز کی تربیت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تربیتی کیمپوں کا تعین اور شامی شہریوں کو بھرتی کرنے کا عمل جاری ہے۔

داعش کےخلاف جاری آپریشن میں حاصل ہونے والی کامیابیوں‌کے بارے میں امریکی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں عالمی برادری نے ہم پر اعتماد کیا اور ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش کو کم سے کم وقت میں ختم کرنا ممکنن نہیں تاہم فضائی آپریشن داعش کی تیزی سے ہونے والی فتووحات اور توسیع پسندی کو روک سکتی ہے۔

خیال رہے کہ 08 ستمبر سے عراق میں جاری امریکی فوجی کارروائی میں اب تک ایک لاکھ 60 ہزار باشندے ترک ھجرت کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں