.

ندا تیونس کی پارلیمانی انتخابات میں برتری

النہضہ 69 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے الیکشن کمیشن نے پارلیمانی انتخابات کے سرکاری عبوری نتائج کا اعلان کردیا ہے جن کے مطابق سیکولر جماعت ندا تیونس نے سب سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔

ندا تیونس نے اتوار کو منعقدہ انتخابات میں پارلیمان کی دو سو سترہ میں سے پچاسی نشستیں جیت لی ہیں جبکہ اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ انہتر نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی ہے۔نداتیونس نئی حکومت بنانے کے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس لیے اب اس کو دوسری جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق ایک اور سیکولر جماعت یو این ایل نے سولہ نشستیں حاصل کی ہیں ،بائیں بازو کی پاپولر فرنٹ نے پندرہ اور لبرل جماعت اُفق تیونس نے آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ندا تیونس ان جماعتوں کے ساتھ مل کر نئی مخلوط حکومت بنا سکتی ہے لیکن اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

تیونس کی اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ نے عام انتخابات کے لیے پولنگ کے دوسرے روز سوموار کو اپنی شکست تسلیم کر لی تھی۔البتہ اس نے ندا تیونس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کا عندیہ دیا تھا۔

النہضہ کے عہدے دار لطفی زیتون نے کہا کہ ''ہم نے انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا ہے اور فاتح جماعت ندا تیونس کو مبارک باد دیتے ہیں''۔انھوں نے النہضہ کی شمولیت سے ملک کے مفاد میں مخلوط حکومت کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ واضح رہے کہ پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح ساٹھ فی صد رہی تھی۔

النہضہ نے تیونس میں جنوری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اکتوبر 2011ء میں منعقدہ انتخابات میں عبوری دستور ساز اسمبلی کی 42 فی صد نشستیں حاصل کی تھیں اور حکومت بنائی تھی۔تاہم وہ ملک کو درپیش معاشی اور سکیورٹی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی حکومت قبل از وقت ختم ہوگئی تھی۔ اس نے برسراقتدار رہنے کے بجائے مفاہمتی پالیسی اختیار کی تھی جس کی وجہ ملک کے نئے آئین کی منظوری اور اس کے تحت پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوئی تھی۔