.

برطانیہ: انتہا پسند شہریوں کے پاسپورٹ ضبط کرنے کی تیاری

پاسپورٹ ضبطی کے اختیارات بڑھانے کا قانون اسی ماہ آئے گا: کیمرون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے اپنے عسکریت کی طرف مائل اور انتہا پسندانہ رجحانات کے حامل شہریوں کے پاسپورٹ ضبط کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں منصوبے کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ یہ بات وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے آسٹریلوی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران بتائی ہے۔

کیمرون گروپ 20 رہنماوں کے آسٹریلوی شہر برزبن میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا'' برطانیہ ان فضائی کمپنیوں کے لیے برطانیہ میں اترنے کی اجازت بھی واپس لے رہا ہیں جو برطانیہ کی طرف سے ''نو فلائی لسٹس '' کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ ''

وزیر اعظم کیمرون نے کہا '' ہم جلد ہی اپنی پارلیمنٹ میں ایک مسودہ قانون پیش کرنے والے ہیں۔ اس قانون میں پولیس کو نئے اختیارات دیے جائیں گے تاکہ وہ ائیر پورٹس اور بندرگاہوں پر پاسپورٹ ضبط کر سکے گی ۔ '' انہوں نے بتایا اس سلسلے میں قانون سازی اسی ماہ متوقع ہے۔''

کیمرون نے کہا '' نئے قانون کی موجودگی میں ایسے افراد کے پاسپورٹ بھی ضبط کیے جا سکیں گے جو شام وغیرہ میں عسکریت کا حصہ بننے کے بعد واپس آئیں گے، اور ان کے خلاف مقدمات بھی چلائے جا سکیں گے۔''

نئے مجوزہ قانون کے پولیس ان افراد کے برطانوی پاسپورٹ بھی ضبط کر سکے گی جو عسکریت کے لیے برطانیہ سے باہر جانے کی تیاری میں ہوں گے۔

واضح رہے اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریبا 500 برطانوی شہری شام اور عراق میں داعش کا حصہ بن کر عسکریت میں شامل ہیں۔ دوسرے یورپی ملکوں کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کو بھی داعش کے حامی انتہا پسند شہریوں کا سامنا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے انتہا پسندی کے اس چیلنج کی مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا'' اس سے نمٹنے کے لیے اس کی جڑوں تک پہنچنا ہو گا۔'' برطانیہ اور آسٹریلیا دونوں امریکی قیادت میں داعش کے خلاف لی جانے والی جنگ کا حصہ ہیں۔