الریاض:جی سی سی کا اجلاس،قطر سے تنازعہ ختم

سعودی عرب ،یواے ای اور بحرین کے سفراء کی دوحہ واپسی پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے غیرعلانیہ اجلاس میں رکن ممالک نے قطر کے ساتھ اختلافات کے خاتمے سے اتفاق کیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے اطلاع دی ہے کہ چھے ملکی اتحاد نے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفراء کو واپس دوحہ بھیجنے سے اتفاق کیا ہے جس کے ساتھ ان کے درمیان گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری سفارتی تنازعے کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی میزبانی میں اس خصوصی غیرعلانیہ اجلاس میں امیرِکویت شیخ صباح الاحمد الجابرالصباح اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ نے الریاض میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔

خلیجی ریاستوں کے لیڈروں کے وفود میں ان کے وزرائے خارجہ اور دوسرے اعلیٰ حکام شامل بھی تھے۔ایس پی اے کے مطابق اتوار کی شام الریاض آمد پر ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز آل سعود اور جی سی سی کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف آل ضیانی نے ان کا استقبال کیا تھا۔

مقامی میڈیا نے گذشتہ ہفتے یہ اطلاع دی تھِی کہ چھے ممالک پر مشتمل جی سی سی کے لیڈروں کا 9،10 دسمبر کو دوحہ میں سالانہ اجلاس سے قبل ایک اجلاس ہوگا اور اس میں تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔جی سی سی کا چھٹا رکن اومان ہے۔

کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے قطر اور سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ان کی یہ کوششیں بالآخر کامیاب ٹھہری ہیں۔

قطر پر مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی حمایت اور اس کے لیڈروں کو پناہ دینے کا الزام تھا جبکہ سعودی عرب ،یو اے ای اور بحرین اخوان المسلمون کے مخالف تھے اور انھوں نے اس جماعت کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔اس کے بعد ان تینوں ممالک نے مارچ 2014ء میں دوحہ سے اپنے سفیروں کو بھی واپس بلا لیا تھا۔1981ء میں جی سی سی کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اس کے رکن ممالک کے درمیان اس طرح کا سفارتی بحران پیدا ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں