.

شام: الرقہ میں شامی بمباری سے امریکا خوفزدہ ہو گیا

شام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جین پاسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شامی حکومت کی طرف سے اپنے مخالفین کے خلاف الرقہ میں کی گئی وحشیانہ بمباری اور فضائی کارروائیوں کو خوفزدہ کر دینے والی کارروائیاں قرار دیا ہے۔

شامی حکومت کی طرف سے کی گئی اس بمباری کے نتیجے میں کم از کم 95 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی ترجمان نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور اسے انسانوں کو ذبح کرنے کے مصداق قرار دیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے کہا "اس کارروائی کی خبروں نے خوف زدہ کر دیا ہے۔" کارروائی سے الرقہ میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے علاوہ مکانات بھی تباہ ہوگئے ہیں۔

ترجمان نے کہا "بشار رجیم کی طرف سے انسانوں کو بمباری سے ہلاک کیا جارہا ہے اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ ایک بے رحم اور ظالم حکومت ہے۔"

پاسکی نے بشار حکومت کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مرتکب قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اسے "ان کارروائیوں کی بنا پر مجرم قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ اس کے جرائم میں اغوا، ہلاکتیں، جنسی و جبری زیادتیاں اور شہریوں پر بمباری کرنا شامل ہے۔"

جس بمباری کو امریکا کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے یہ داعش کی طرف سے حالیہ قبضوں کے بعد شامی رجیم کی بدترین اور ہلاکت خیز بمباری تھی۔

شام میں اسد حکومت اور عالمی اتحادی دونوں اپنے اپنے اہداف پر بمباری کر رہے ہیں۔ شام میں امریکی قیادت میں اس کے اتحادیوں کی بمباری ماہ ستمبر میں شروع ہوئی تھی۔