.

تیونس: سابق وزیر قومی اسمبلی کے صدر منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی 2011ء کے انقلاب کے بعد معرض وجود میں آنے والی پہلی قومی اسمبلی نے سیکولر جماعت ندا تیونس سے تعلق رکھنے والے بزرگ سیاست دان محمد الناصر کو ایوان کا صدر (اسپیکر) منتخب کر لیا ہے۔

اسّی سالہ محمد الناصر قومی اسمبلی کی صدارت کے لیے واحد امیدوار تھے۔جمعرات کو رائے شماری کے وقت ایوان میں موجود دو سو چودہ میں سے ایک سو چوہتر ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دیا ہے۔انھوں نے اپنے انتخاب کے بعد مختصر تقریر میں ارکان پارلیمان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ آزادیوں اور انسانی حقوق کے احترام اور قانون کی حکمرانی کے لیے اتفاق رائے پر مبنی حکمت عملی پرعمل پیرا ہوں گے۔

محمد الناصر ندا تیونس کے نائب سربراہ ہیں۔اس جماعت نے اکتوبر میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ چھیاسی نشستیں جیتی تھیں۔ اس جماعت کے سربراہ الباجی قائد السبسی نے نومبر میں منعقدہ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے اور اب ان کا دسمبر کے آخر میں موجودہ صدر منصف مرزوقی کے ساتھ ون آن ون مقابلہ ہوگا۔

قومی اسمبلی کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے رائے شماری منگل کے روز متوقع تھی لیکن متفقہ امیدوار سامنے لانے کی غرض سے مشاورت کے لیے اس میں دو دن کی تاخیر کی گئی ہے۔پارلیمان نے عام انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہنے والی اعتدال پسند مذہبی سیاسی جماعت النہضہ اور تیسرے نمبر پر رہنے والی آزاد پیٹریاٹک یونین سے تعلق رکھنے والے ایک ایک امیدوار کا ڈپٹی اسپیکر(نائب صدر) کے عہدے کے لیے انتخاب کیا ہے۔

پارلیمان کے نومنتخب صدر محمد الناصر تیونس کے بابائے آزادی حبیب بو رقیبہ کے دور حکومت میں 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں سماجی امور کے وزیر رہے تھے۔

واضح رہے کہ تیونس کے انتخابی نظام کے تحت سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو مخلوط حکومت بنانے کا حق حاصل ہے۔تاہم ندا تیونس کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب سے قبل نئی حکومت نہیں بنائے گی لیکن پارلیمان کے صدر اور دونوں نائب صدور کے اتفاق رائے سے انتخاب سے یہ نظر آرہا ہے کہ ندا تیونس اپنی حریف النہضہ کے ساتھ مل کر شاید مخلوط حکومت ہی بنائے گی۔