.

شام میں داعش کے خلاف برّی فوج درکار ہے:سعودالفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ شام میں دہشت گردی سے نمٹنے میں ایک طویل عرصہ لگ سکتا ہے اور وہاں داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے برّی فوج درکار ہے۔

وہ برسلز میں داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ممالک کی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ دہشت گردی سے نمٹنے میں ایک طویل عرصہ لگے گا اور اس کے لیے مسلسل کاوشوں کی ضرورت ہے''۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اتحاد کی کوششوں کی کامیابی چاہتا ہے لیکن ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ان کوششوں کے ضمن میں برسرزمین لڑاکا فوج بھیجی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کی اعتدال پسند فورسز کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے اور ان فورسز کو شام کے اس وقت دہشت گردوں کے قبضے میں ایک تہائی علاقوں کو چھڑوانے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

عراق میں داعش مخالف جنگ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ ''وہاں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے داخلی محاذ کے اتحاد کی ضرورت ہے اور ایک اجتماعی ڈاکٹرائن کے تحت عراقی فوج کی تشکیل نو کی جائے''۔