.

سعودی عرب: 16 شامیوں سمیت 135 دہشت گرد گرفتار

17 پر غیر ملکی تعاون سے بدامنی پھیلانے کا الزام تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں حکام نے 135 دہشت گردوں کو حراست میں لیا ہے۔ گرفتار ہونے والے 16 دہشت گردوں کا تعلق شام سے بتایا جاتا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر جنرل منصور الترکی نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے مستقل بنیادوں پر جب مشتبہ گروپوں اور شخصیات کا پیچھا کیا جو نظریاتی طور پر دہشت گردی کی حمایت کرتے تھے۔ اس مستقل فالو اپ کا نتیجہ 135 افراد کی گرفتاری کی صورت میں نکلا۔

جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ حراست میں لئے جانے والے 16 شامیوں کے علاوہ باقی تمام افراد کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ ان میں تین مشتبہ افراد یمنی، ایک ایک مصری، افغانی، اتھوپیئن، بحرینی اور عراقی بتائے جاتے ہیں۔

منصور الترکی نے بتایا کہ چالیس افراد کو سعودی عرب کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے انتہا پسند تنظیموں کے ذریعے مختلف علاقوں میں ہنگامہ آرائی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اسلحہ چلانے اور دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت بیرون حاصل سے کی۔ اس کے بعد وہ مملکت واپس آئے تاکہ وہاں امن و امان کی صورتحال کو تاراج کر سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 45 زیر حراست افراد کو مملکت کے مختلف حصوں سے پکڑے گئے۔ ان پر مختلف انتہا پسند تنظیموں سے تعلق ثابت ہو گیا تھا۔ یہ افراد مختلف تنظیموں کو مالی امداد سے لیکر بھرتی اور گمراہ عناصر کے حق میں فتوے لیکر دیتے رہے۔ نیز بعض گرفتار افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے اشتہاری ملزموں کو بم بنانے کی تربیت دی۔

سترہ افراد کو مملک کے مختلف حصوں میں بلوا، لوٹ مار اور سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان سے بڑے پیمانے پر ہتھیار برآمد ہوئے جنہیں وہ بذریعہ سمگلنگ مملکت لائے تاکہ ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم کیا جا سکے۔

سعودی شہر قطیف سے گرفتار ہونے والے تین افراد پر سعودی نوجوانوں کو بھرتی کر کے دہشت گردی کی تربیت کے لئے بیرون ملک بھجوانے کا الزام ہے تاکہ وہ مسلح تربیت لیکر واپس مملکت آئیں۔

حراست میں لئے جانے والے 21 افراد پر غیر قانونی طور پر سعودی عرب داخلے کی کوشش یا داخل ہونے والوں کو مدد فراہم کرنے اور اسلحہ سمگلنگ کا الزام ہے۔