برطانیہ:کمپیوٹر نظام میں خرابی،فضائی ٹریفک درہم برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانیہ کے فضائی ٹریفک کے ایک مرکزی کنٹرول سنٹر میں فنی خرابی کی بنا پر لندن آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی سیکڑوں پروازیں متاثر ہوئی ہیں اور برطانوی حکام نے مختصر وقت کے لیے اپنی فضائی حدود کو بیرون ملک سے آنے والے طیاروں کے لیے بھی بند کردیا ہے۔

لندن کے ہیتھرو ائِرپورٹ پر جمعہ کی سہ پہر کنٹرول سنٹر کے کمپیوٹر نظام میں خرابی کی وجہ سے ایک گھنٹے تک پروازوں کی آمد ورفت معطل رہی ہے۔ہیتھرو کو یورپ کا مصروف ترین ائیر پورٹ قرار دیا جاتا ہے۔لندن میں پانچ بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیں اور صرف ہیتھرو سے روزانہ بارہ سو سے چودہ سو پروازوں کی اندرون اور بیرون ملک آمد ورفت ہوتی ہے۔یہاں سے امریکا روزانہ دو سو پروازیں آتی اور جاتی ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ائیرٹریفک سروس (این اے ٹی ایس،نیٹس) نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''برطانیہ کی فضائی حدود کو بند نہیں کیا گیا ہے بلکہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے فضائی حدود کی صلاحیت کو محدود کیا گیا ہے''۔

نیٹس کی اطلاع کے مطابق اس کے سوانوک میں واقع کنٹرول سنٹر میں کمپیوٹر نظام میں خرابی پیدا ہوئی تھی۔اب اس کو دور کردیا گیا ہے اور پروازوں کی آمد ورفت کا سلسلہ معمول کے مطابق بتدریج بحال کیا جارہا ہے۔لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ کے حکام نے برقی رو کے تعطل کو کمپیوٹر نظام کی خرابی کا سبب قرار دیا ہے۔اس کے بعد ہیتھرو کے لیے بیرون ملک سے آنے والی متعدد پروازوں کا رُخ مانچسٹر اور برمنگھم کی جانب پھیر دیا گیا تھا۔

اس ادارے نے بعد میں اطلاع دی ہے کہ فضائی ٹریفک کو کنٹرول کرنے والے کمپیوٹر سسٹم کو بحال کردیا گیا ہے لیکن اس کو مکمل طور پر فعال ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔لندن کے دوسرے بڑے ہوائی اڈے گیٹوِک سے اندرون اور بیرون ملک پروازیں روانہ ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

واضح رہے کہ سوانوک نیٹس کے دو بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔دوسرا پریسٹوِک اسکاٹ لینڈ میں قائم ہے۔سوانوِک 1990ء کے عشرے میں اپنے قیام کے بعد سے مسائل سے دوچار رہا ہے اور ہر دوچار سال کے بعد اس کے کمپیوٹر نظام میں کوئی نہ کوئی فنی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔سنہ 2004ء اور 2008ء میں ایسی ہی فنی خرابیوں کی وجہ سے برطانیہ آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی سیکڑوں پروازیں متاثر ہوئی تھیں۔

تاہم اس کے نظام میں اس نئی فنی خرابی کی تفصیل کا فوری طور پر پتا نہیں چل سکا ہے۔برطانوی حکومت کے ایک ذریعے کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ بظاہر اس واقعے سے برطانیہ کی سکیورٹی کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں