.

فلسطینی ریاست کی آزادی، قرارداد سلامتی کونسل میں پیش

قرارداد اردن نے پیش کی، ووٹنگ موخر بھی ہو سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں باضابطہ طور پر قرار داد پیش کر دی ہے۔

اس قرارداد کو اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن کی قرارداد کا کا نام دیا گیا ہے۔سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی اس قرارداد پر امکان ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے بعد ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ تاہم ایسا حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے اپنی فوج کو 2017 کے اختتام سے پہلے واپس بلائے۔ اس سے پہلے تیار کیے گئے قرارداد کے مسودے میں اس مقصد کے لیے ڈیڈ لائن نومبر 2016 طے کی گئی تھی۔

قرارداد میں ایک ایسی عالمی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز کا بھی خیر مقدم کیا گیا ہے جس کا مقصد امن ٘معاہدے تک پہنچنا ہو۔ نیز فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ کسی یکطرفہ کوشش اور غیر قانونی اقدام سے گریز کریں، اسی طرح یہودی بستیوں کا قیام بھی دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ لہٰذا ایسے اقدامات سے بھی گریز کیا کیا جائے۔

اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے مستقل مبصر ریاض منصور نے اس قرار داد کے حوالے سے کہا ہے کہ ''عرب ممالک کی حمایت سے پیش کی گئی اس قرارداد سے مزید کسی بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہو جاتا ہے، نہ ہی امریکا کے ساتھ بات چیت میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے البتہ اس میں متعلقہ فریق کی رضا مندی ضروری ہے۔ ''

واضح رہے سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر امریکا نے اسرائیل کو نشانہ بنانے والے مجوزہ اقدامات کے ہمیشہ خلاف ووٹ استعمال کیا ہے۔

ریاض منصور نے کہا '' اس امر کا امکان موجود ہے کہ سلامتی کونسل میں کسی تصادم سے بچنے کے لیے قرارداد پر ووٹنگ کو فی الحال موخر رکھا جا سکتا ہے ۔''

دوسری جانب اسرائیل زور دار انداز میں ہر اس تجویز کی مخالفت کا ارادہ رکھتا ہے جس کے تحت اسرائیل کو کسی فریم ورک کا پابند بنائے جانے کی بات کی گئی ہو۔

سفارت کاروں کے خیال میں دوطرفہ بات چیت آئندہ ہفتوں میں شروع ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے لیے اردن کی نمائندہ دینا کاوار اس بارے میں امید ظاہر کرتی ہیں کہ سلامتی کونسل ایک متفقہ فیصلے پر پہنچ جائے گی۔

دریں اثناء امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے حماس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے یورپی یونین کی عدالت کے فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے۔ واضح رہے امریکا آج بھی حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ تاہم امریکا نے اردن کی فلسطین سے متعلق قرارداد کے بارے میں ابھی باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہا کہ وہ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔

اس سے پہلے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکا نے اسرائیل کو یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ اس قرار داد کے حوالے سے ویٹو کا حق استعمال کر سکتا ہے۔