مصر: گرجا گھر کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ہلاک
قبطی گرجا گھر دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں قائم ہے
مصری پولیس کے اہلکار کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مارکر ہلاک کر دیا ہے۔ یہ پولیس اہلکار منگل کے روز ایک قبطی مسیحیوں کے گرجا گھر کے باہر حفاظت کے لیے مامور تھا۔ یہ گرجا گھر دارالحکومت کے جنوب میں اہک شہر میں قائم ہے۔
پولیس اہلکار گولی لگنے کے فوری بعد موقع پر ہلاک ہو گیا ہے۔ حملہ آوروں نے اپنے چہروں کو نقاب سے ڈھانپ رکھا تھا۔ بدھ کے روز سے قبطی مسیحی فرقے کے گرجا گھروں کی نگرانی اور حفاظت سخت کر دی گئی تھی۔
قبطی مسیحی فرقہ مصر کی مجموعی آبادی کے دس فیصد پر مشتمل ہے۔ واضح رہے مصر کی آبادی پچاسی ملین ہے۔ یہ مسیحی فرقہ بالعموم امن پسندی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔
مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی فوجی سربراہ کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے مصر میں غیر معمولی صورت حال ہے۔ تاہم اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے ساتھ اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ نہ ہی مسیحیوں کے خلاف کسی کارروائی کا وہ حصہ ہے۔
-
خواتین 'حیا دار' لباس پہن کر چرچ آئیں: مذہبی پیشوا
عیسائی خواتین کا قبطی عیسائی پیشوا کے فیصلے پر احتجاج
بين الاقوامى -
مصری سیاسی جماعت کی پہلی خاتون سربراہ منتخب
قبطی عیسائی ہالہ شکراللہ دستور پارٹی کی سربراہ بنی ہیں
مشرق وسطی -
شاہ عبداللہ کے بعد قبطی چرچ کا بھی مصری فوج کیلے اعلان حمایت
مغربی ممالک دہشت گردوں کی حمایت اور میڈیا غلط رپورٹنگ نہ کرے: قبطی کلیسا
مشرق وسطی -
مصر الأنبا تواضروس قبطی چرچ کے نئے روحانی پیشوا منتخب
تین حتمی امیدواروں میں سے قرعہ کے ذریعے ایک کا انتخاب
مشرق وسطی -
مصر قبطی رہ نما کا اخوان کے ضلعی عہدے کے لئے انتخاب لڑنے کا اعلان
اخوان کی سیاسی پارٹی کے صدر کے کا چناؤ 09 نومبر کو ہو گا
بين الاقوامى -
فیلڈ مارشل السیسی کی قبطی عیسائی پوپ سے ملاقات
السیسی نے چرچ سے اپنی انتخابی مہم کا غیر رسمی آغاز کر دیا
مشرق وسطی