سعودی عرب: شامی و عراقی یتیموں کو گود لینے کی ممانعت

عالمی ادارے اس معاملے میں کام کر رہے ہیں: وزارت سماجی امور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزارت سماجی امور نے شام اور عراق ایسے ممالک کے جنگ زدہ یتیم بچوں کو گود لینے کی ممانعت کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت سماجی امور کی ڈائریکٹ لطیفہ التمیمی کا کہنا ہے '' وزارت عرب ملکوں کے ان یتیم بچوں کو گود لینے والے سعودی شہریوں کو وسائل مہیا نہیں کرے گی۔

اس ناطے عالمی ادارے اور تنظیمیں انسانی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔'' وزارت سماجی امور کی ڈائریکٹر لطیفہ التمیی نے بتایا حال ہی میں سعودی خاندانوں نے پانچ سو ساٹھ سعودی یتیم بچوں کو گود لیا ہے۔ ان بچوں کی پیدائش سے متعلق دستاویزات بھی موجود ہیں اور پاسپورٹوں سمیت دیگر ضروری دستاویزات بھی دستیاب ہیں۔

واضح رہے ان خاندانوں کو سعودی وزارت سماجی امور ماہانہ تین ہزار ریال کی امداد بھی دیتی ہے۔ اسی طرح ان سعودی یتیم بچوں کے لیے علاج کی مفت سہولیات کے علاوہ بنک اکاونٹس کی بھی سہولت فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم سعودی خاندانوں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ گود لیے گئے ان یتیم بچوں کے والدین کے ناموں میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ لطیفہ التمیمی نے کہا انہوں سے نظام میں ابھی تک کوئی خرابی یا برائی نہیں دیکھی ہے۔

ان سعودی بچوں کو اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنی مرضی سے الگ رہنے کا بھی حق ہے۔ وزارت سماجی امور ان کی بلوغت کو پہنچنے کے بعد شادیوں کے بھی حق میں ہے۔ اس سلسلے میں فی کس ساٹھ ہزار سعودی ریال کی رقم بھی وزارت کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔

ام القریِ یونیورسٹی کے استاد عبداللہ المکی کا یتیموں کی پرورش کے حوالے سے کہنا ہے کہ اسلام اس امر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، تاہم بچوں کے والدین کے نام یا خاندانوں کے نام تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں