"تہران، ریاض سے تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے"
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ علاء الدین بروجردی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطی کے ہمسایہ ممالک بالخصوص سعودی عرب سے بہتر تعلقات چاہتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں اپنے دورہ لبنان کے موقع پر وزیر اعظم تمام سلام سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بروجردی نے بتایا کہ ملاقات میں انہوں نے سعودی عرب میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد ہونے والی پیش رفت پر لبنانی وزیر اعظم سے تبادلہ خیال کیا۔
بروجردی نے کا کہنا تھا کہ"ایران کی طویل مدتی پالیسی ہے کہ وہ خطے کے تمام ممالک خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ بہترین برادرانہ تعلقات قائم کرے۔"
ان کا مزید کہنا تھا "ہم سمجھتے ہیں خطے کے ممالک اپنے درمیان موجود تعلقات کو جتنا مستحکم اور مضبوط بنائیں گے، اس سے علاقے میں استحکام اور سلامتی کے قیام میں مدد مل سکے گی۔"
بروجردی بیروت میں حزب اللہ کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے جس میں 18 جنوری کو اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جنوبی شام میں ہلاک ہونے والے لبنانی شیعہ جنگجوئوں اور ایک ایرانی عہدیدار کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
تہران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اپنے ہزاروں جنگجو شام میں بھیجے ہیں تاکہ وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے دفاع میں مدد فراہم کر سکیں۔ جبکہ سعودی عرب بشار کے خلاف لڑنے والی باغی فورسز کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔
اس سے پہلے جمعرات کی شام کو بیروت کے ایک ٹی وی چینل 'میادین' نے بتایا کہ ایرانی کی ایلیٹ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے بھی جنگجوئوں کے ہلاکت کے 24 گھنٹوں کے اندر بیروت کا دورہ کیا تھا۔
انہوں نے اپنے دورے کے دوران حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سے ملاقات کی اور اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایک جنگجو جہاد مغنیہ کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔