.

اسرائیل کا ایران کو کشیدگی نہ بڑھانے کا مشورہ

ایران نے اسرائیل کے خفیہ پیغام کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اسرائیل کی جانب سے ایک خفیہ پیغام موصول ہونے کی تصدیق کی ہے جس میں تل ابیب کی جانب سے تہران کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دو ہفتے قبل شام کے سرحدی شہر القنیطرہ میں ‌فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کے ایک جنرل کی ہلاکت پر کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے کیونکہ اسرائیل بھی ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کا خواہاں نہیں‌ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین علاء الدین بروجردی نے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے "العالم" ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ‌انکشاف کیا کہ تہران کو اسرائیل کئ جانب سے بھیجا گیا ایک پیغام موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران، شام میں اپنے فوجی جنرل اور حزب اللہ کارکنوں کی ہلاکت پر کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے۔ مسٹر بروجردی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے باضابطہ سرکاری ذریعے سے ایران کو یہ پیغام بھیجا ہے جس میں‌ تشدد کا راستہ اختیار نہ کرنے کا 'مشورہ' دیا ہے۔

انہوں ‌نے کہا کہ اسرائیل کا پیغام ایرانی وزارت خارجہ کو موصول ہوا جس میں تل ابیب کا کہنا ہے کہ وہ "القنیطرہ" میں دو ہفتے قبل پیش آنے والے واقعے کو مزید بڑھانا نہیں چاہتا ہے۔ توقع ہے کہ ایران بھی اس معاملے کی بنیاد بنا کر کسی انتقامی کارروائی سے گریز کرے گا۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین سے جب پوچھا گیا کہ اسرائیلی حملے اور اس کے بعد پرامن رہنے کے پیغام پر ان کے ملک کا ردعمل کیا ہو گا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جب بھی ہمارے خلاف جارحیت کرے گا تو اسے سخت ترین جواب دیا جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات سے ہمہ گیر جنگ چھڑ جائے۔ اسرائیلی ریاست کچھ ایسے فیصلے کرنا چاہتی جن کے ذریعے وہ دوسروں کو دبائو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی سابقہ شکستوں سے بچ سکے۔

بروجردی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں ‌پر حملہ "القنیطرہ" میں اسرائیلی حملے کا جواب ہر گز نہیں کیونکہ حزب اللہ نے شعبا فارمز میں اپنے ہی ملک میں دراندازی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں ‌کو نشانہ بنایا۔ عالمی قانون ہر قوم کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ شعبا فارمز میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ دفاعی تھا اور اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل اسرائیل نے مقبوضہ وادی گولان سے متصل شام کے سرحدی شہر القنیطرہ میں ایک قافلے پر فضائی حملہ کرکے حزب اللہ کے چھ کمانڈر اور ایرانی پاسداران انقلاب کے جنرل محمد علی اللہ دادی کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے رد عمل میں گذشتہ ہفتے حزب اللہ نے شعبا میں اسرائیلی فوجیوں ‌کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا تھا جس میں اسرائیلی اور یونیفل میں شامل ہسپانوی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔