.

صدر اوباما:داعش کے ہاں یرغمال امریکی خاتون کی ہلاکت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے شام میں داعش کے زیرحراست خاتون امدادی کارکن کیالا ژاں میولر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے اور کہا ہے کہ امریکا کو خواہ کتنا ہی عرصہ لگ جائے ،وہ کیالا کو یرغمال بنانے اور اس کی ہلاکت کے ذمے دار دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں اردن کے طیاروں کی بمباری میں کیالا میولر کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ اس کو جس عمارت میں رکھا گیا تھا،اس پر اردن کے طیاروں نے فضائی حملہ کیا تھا اور وہاں موجود افراد مارے گئے ہیں۔

میولر کے خاندان نے بھی اس کی موت کی اطلاع کی تصدیق کی ہے اور اس کی جانب سے دوران حراست 2014ء میں لکھا گیا ایک خط جاری کیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ایک خاتون ترجمان برناڈیٹ میہان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش کے اغوا کاروں نے اختتام ہفتہ پر ذاتی طور پر میولر کے خاندان سے رابطہ کیا تھا اور انھیں ایک پیغام میں اس کی موت کی اطلاع دی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ''جب انٹیلی جنس کمیونٹی نے اس اطلاع کی تصدیق کردی تو وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کیالا کی موت ہو چکی ہے''۔تاہم صدر اوباما یا میولر کے خاندان نے ہلاکت کے واقعے کی مزید تفصیل بیان نہیں کی ہے۔یادرہے کہ چھبیس سالہ میولر ایک امدادی کارکن تھی۔داعش کے جنگجوؤں نے اس کو شام کے شمالی شہر حلب میں اگست 2013ء میں ایک اسپتال سے باہر جاتے ہوئے اغوا کر لیا تھا۔