چار کینیڈی نوجوانوں کی داعش میں شمولیت کا شُبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کینیڈا کے حکام نے کیوبک شہر سے جنوری میں لاپتا ہونے والے چار نوجوانوں اور دو عورتوں کے بارے میں شُبہ ظاہر کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ چلے گئے ہیں اور وہاں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی صفوں میں شامل ہوکرلڑ رہے ہیں۔

ایک کینیڈین اخبار گلوب اینڈ میل نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں لکھا ہے کہ یہ چاروں نوجوان مانٹریال کے کالج ڈی میسنوف میں حال ہی میں زیر تعلیم تھے۔گلوب نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس نے ان چاروں کے ترکی پہنچنے کی تصدیق کی ہے اور کینیڈی حکام کو بھی ان کے ترکی تک جانے کا سراغ ملا ہے۔

کینیڈا کے پبلک سیفٹی کے وزیر اسٹیون بلانے سے جب ان رپورٹس پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ آپریشنل امور پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنگجو گروپوں کے لیے بھرتی کے عمل کو روکنے اور ایسے لوگوں کے بیرون ملک جانے پر پابندی کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ غیرملکی نوجوان پہلے ترکی پہنچتے ہیں اور پھر وہاں سے شام کا سفر اختیار کرتے ہیں اور شامی حدود میں داخل ہونے کے بعد وہ داعش ،القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ یا دوسرے جنگجو گروپوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔اس وقت مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کی ایک بڑی تعداد شام اور عراق میں داعش میں شامل ہوکر لڑرہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں