.

ایران سے پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہے:نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اس کے لیڈر نہ صرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ ہیں بلکہ وہ دنیا بھر کی اقوام کے لیے بھی خطرے کا موجب ہیں۔انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرانے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نیتن یاہو منگل کو واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ایران کی تاسیسی دستاویز میں جہاد پر عمل پیرا ہونے کی بات کی گئی ہے اور مشرق وسطیٰ بھر میں اس وقت ریاستیں منہدم ہورہی ہیں۔ہم سب کو ایران کے فاتحانہ مارچ اور جبر وتشدد کو روکنا ہوگا''۔

اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی کانگریس میں اس تقریر سے قبل ہی یہ پیشین گوئی کی جارہی تھی کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اظہار خیال کریں گے۔انھوں نے حسب توقع کہا کہ ''ایرانی رجیم پہلے کی طرح کٹڑ (ریڈیکل) ہے۔اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور امریکا کے ساتھ جوہری تنازعے پرجو ڈیل ہونے جارہی ہے،وہ ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روکے گی نہیں بلکہ بم کی تیاری کے لیے راستہ ہموار کرے گی''۔

نیتن یاہو جب امریکی کانگریس میں تقریر کے لیے ہال میں داخل ہوئے تو ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا اور بعض ارکان نے ان سے بھی مصافحہ کیا۔انھوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں انھیں کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں مدعو کرنے کے حوالے سے تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی۔

ایوان نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر کی جانب سے انھیں خطاب کی دعوت دینے کی ڈیمو کریٹس نے مخالفت کی تھی اور امریکی صدر براک اوباما کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے اسرائیل میں اسی ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں اس کو نامناسب قرار دیا تھا جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ان سے یہ ضمانت لینے کی کوشش کی تھی کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تندوتیز گفتگو نہ کریں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ امریکا ،اسرائیل کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے صدر براک اوباما کی جانب سے سرکاری اور نجی سطح پر اسرائیل کی حمایت اور فوجی امداد کو سراہا۔انھوں نے خاص طور پر امریکا کی جانب سے میزائل دفاعی نظام آئرن ڈوم مہیا کیے جانے کا ذکر کیا۔

انھوں نے کانگریس میں تقریر کی دعوت کو سیاسی رنگ دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ '' مجھے اس پر افسوس ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ چوراہے کے کسی جانب بھی بیٹھیں گے تو ساتھ اسرائیل ہی کا دیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ایران جب تک اپنے کردار میں تبدیلی نہیں لاتا ہے تو امریکا کو اس پر عاید پابندیوں میں نرمی نہیں لانی چاہیے''۔ان کا کہنا تھا کہ''اگر عالمی طاقتیں ایران کو معاہدے پر دستخط سے قبل کردار میں تبدیلی لانے کا کہنے کو تیار نہیں تو انھیں کم سے کم ایران سے یہ تو کہنا چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی اپنے کردار کو تبدیل کرلے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی نے امریکا اور دوسرے ممالک کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں ایک مضبوط پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے اور اس صورت حال میں ایران کو جوہری پروگرام رول بیک کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے''۔

امریکی صدر براک اوباما نے نیتن یاہو کی اس تقریر سے صرف ایک روز قبل برطانوی خبررساں ادارے رائیٹَرز کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ ہماری توجہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رکھنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔

نیتن یاہو یہ مطالبہ کرتے چلے آرہے ہِیں کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ان کے بہ قول وہ اپنے ان تمام جوہری منصوبوں سے دستبردار ہوجائے جن کے ذریعے جوہری بم تیار کیا جاسکتا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے اور امریکا بھی اسرائیل کے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مطالبات کو غیر حقیقی قرار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل ماضی میں ایران کو جوہری قوت بننے سے روکنے کے لیے یک طرفہ فوجی حملے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے نومبر 2013ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے سے متعلق جنیوا میں طے پائے ابتدائی سمجھوتے کی شدید مخالفت کی تھی اور اس کو ایک بھیانک تاریخی غلطی قراردے کر مسترد کردیا تھا۔اس سمجھوتے میں ایران کا محدود پیمانے پر یورینیم کو افزودہ کرنے کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور اس کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے دورحکومت میں متعدد مرتبہ صہیونی ریاست کودنیا کے نقشے سے مٹانے کی دھمکی دی تھی۔تاہم موجودہ صدر حسن روحانی کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے بعد یا اس سے پہلے صہیونی ریاست کے خلاف کوئی سخت بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اسرائیل کے خلاف گاہے گاہے سخت بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک تقریر میں کہا تھا کہ ''صہیونی رجیم کے ستون لڑکھڑا رہے ہیں اور یہ تباہی سے دوچار ہونے والا ہے''۔