فجر لیبیا کے حملوں کے بعد 11 آئیل فیلڈز آفت زدہ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لیبیا کی نیشنل آئیل کمپنی نے اسلام پسند جنگجوگروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے حالیہ حملوں کے بعد گیارہ بڑے آئیل فیلڈز کے تحفظ سے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں اور انھیں آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔

قومی آئیل کمپنی اگر اپنے زیرانتظام تیل کے کنووں کا تحفظ نہ کرسکے تو وہ قانون کے تحت خود کو بے دست وپا ظاہر کرنے کے لیے آئیل فیلڈز کو آفت زدہ قرار دے سکتی ہے۔کمپنی نے دھمکی دی ہے کہ اگر سکیورٹی کی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو وہ تمام آئیل فیلڈز اور بندر گاہوں کو بند کردے گی۔

اسلامی جنگجوؤں نے منگل کے روز الباہی اور المبروک میں واقع تیل کے دو کنوؤں پر قبضہ کر لیا تھا اور اب وہ الزہرا میں واقع تیسرے آئیل فیلڈ کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔واضح رہے کہ لیبیا کے بیشتر آئیل فیلڈز سے پہلے ہی تشدد کے واقعات کی وجہ سے تیل کی پیدوار بند ہو چکی ہے۔ان دونوں مقامات پر فروری میں حملوں میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور وہاں سے تمام عملہ واپس بلا لیا گیا تھا۔

طرابلس میں قابض فجر لیبیا کے ایک لڑاکا طیارے نے منگل کے روز راس لانوف اور السدرہ کی بندرگاہوں پر بمباری کی تھی۔لیبیا میں تیل کی تنصیبات کے تحفظ کی ذمے دار فورسز کے ترجمان علی حاسی نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ''فضائی حملے میں راس لانوف میں ایک سول ہوائی اڈے اور السدرہ میں تیل کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔طیارے سے فائر کیے گئے راکٹ ٹینکوں کے نزدیک گرے تھے جس سے معمولی نقصان ہوا تھا۔

ان حملوں کے جواب میں لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت فورسز نے طرابلس اور مصراتہ میں اپنے مخالف فجر لیبیا کے زیر قبضہ ہوائی اڈوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ سرکاری فوج کے طیارے نے طرابلس میں ہوائی اڈے کے رن وے کے نزدیک گولے گرائے تھے لیکن ان سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا۔

السدرہ اور راس لانوف میں واقع آئیل فیلڈز سے لیبیا کی تیل کی کل پیداوار کا نصف حاصل ہوتا ہے لیکن دسمبر میں ملک کی دونوں متحارب حکومتوں کے تحت فورسز کے درمیان لڑائی کے بعد سے یہ دونوں کنویں بند پڑے ہیں۔واضح رہے کہ خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں اس وقت تیل کی پیداوار کم ہو کر قریباً چار لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے جبکہ سنہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے دور اقتدار میں اس کی تیل کی یومیہ پیدوار سولہ لاکھ بیرل تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں