.

شاہ سلمان:فلسطینی نصب العین کے دفاع کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عرب اور مسلم نصب العین کے دفاع کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے حق کی تکمیل ان کی اولین ترجیح ہے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز قوم سے خطاب میں جنوری میں بادشاہت سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی سے متعلق ایجنڈے کا اعلان کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ عرب اور اسلامی نصب العین کا دفاع کریں گے۔انھوں نے کہا کہ وہ عرب اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لیے انھیں ایک مؤقف پر متحد کریں گے اور ان کے مؤقف میں یکسانیت لائیں گے۔

انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ''سعودی عرب بین الاقوامی معاہدوں ،کنونشنوں اور چارٹرز کی پاسداری کرے گا اور خود مختاری کے اصول کا احترام کرے گا اور وہ اپنے داخلی امور میں بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے''۔

شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ ''سعودی عرب دنیا میں سلامتی اور استحکام کے لیے کام کرے گا،امن اور انصاف کے اصولوں کو پروان چڑھائے گا،تنازعات کو پُرامن طریقے اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرے گا اور وہ طاقت اور تشدد کے استعمال یا کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کرتا ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوجائیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''دنیا میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک عالمی مظہریت ہے اور اس کا کوئی مذہب نہیں ہے۔سعودی مملکت نے انتہا پسندی اور دہشت گردی اور ان کی تمام شکلوں اور ذرائع کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کی ہے اور اس لعنت کے خلاف جنگ میں برادر اور دوست ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اس دنیا کا حصہ ہیں اور اس کے مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ہم اس کی ذمے داری کو قبول کرتے ہیں اور فوری عالمی مسائل کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں گے۔ان میں ماحولیاتی مسائل اور پائیدار ترقی کا حصول سب سے نمایاں ہیں''۔