بن لادن کے قاتل نے "فاکس نیوز" میں تجزیہ نگاری شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شدت پسند تنظیم القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں دو مئی 2011ء کی شب کو قتل کرنے والے سابق امریکی سیل روپ اونیل نے ایسی شہرت دوام حاصل کی کہ اسے امریکا کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک "فاکس نیوز" نے عسکری امور کے ایک تجزیہ نگار کے طور پر اپنی ٹیم میں شامل کرلیا ہے۔ اونیل اب روز مرہ کی بنیاد پر فاکس نیوز کے ذریعے اپنی فوجی مہمات اورعسکری تجربات عوام الناس سے شیئر کرے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب کسی مشہورریٹائرڈ فوجی اہلکار کو ٹی وی چینل کی انتظامیہ نے باضابطہ طور پر اپنی ٹیم میں بہ طور تجزیہ نگار کے شامل کیا ہے۔ اونیل نے اپنی سروس کے پورے عرصے میں دنیا بھر کے کئی ملکوں میں 400 جنگی آپریشنز میں حصہ لیا۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹویٹر" پر اپنے ایک مختصر پیغام میں اس نے لکھا کہ "مجھے فاکس نیوزکی ٹیم کا حصہ بننے پربے حد خوشی ہے۔"

خیال رہے کہ روپ اونیل نے ایک سال قبل اس وقت عالمی شہرت حاصل کی تھی جب اس کا نام اسامہ بن لادن کے قتل کے حوالے سے تیار کردہ دستاویزی فلم میں سامنے آیا اور یہ بتایا گیا کہ دنیا کے انتہائی خطرناک شخص کی موت اونیل کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ دستاویزی فلم میں بتایا گیا تھا کہ امریکا میں نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ کو ایبٹ آباد میں نصف شب روپ اونیل کی لگنے والی گولی ہی جان لیوا ثابت ہوئی تھی۔

"فاکس نیوز" کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر روجر ایلز کا کہنا ہے کہ "اونیل ہماری قوم کے ایک ہیرو ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی امریکا کی خدمت میں صرف کی۔ عسکری سروس کے دوران انہوں نے ایسی ایسی مشکل مہمات کو بھی سر کیا جن کی کامیابی کا امکان بہت کم تھا۔ اگرچہ یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے تعجب کا باعث ہوگی مگر ہم نے اونیل کو اپنی ٹیم میں اس لیے شامل کیا ہے تاکہ فیلڈ میں ان کے تجربات سے قوم کو آگاہ کیا جاسکے۔"

انہوں نے کہا کہ اونیل ایک صاحب بصیرت اور جنگی امور کے ماہرسابق فوجی افسر ہیں۔ ان کی باتوں سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس لیے فاکس نیوز نے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے۔

یاد رہے کہ روپ اونیل ان چھ امریکی فوجیوں میں سے ایک ہے جنہیں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن دلادن کو قتل کرنے کا نہایت خطرناک ٹاسک سونپا گیا تھا۔ اس نے اسامہ کے قتل کے علاوہ اس نوعیت کی کئی دوسری اہم کامیابیاں بھی اپنے نام کررکھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوران سروس اس نے 52 تمغے حاصل کر رکھے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی سیل روپ اونیل کو جب سنہ 2011ء اسامہ بن لادن کے ٹھکانے تک پہنچنے اورانہیں قتل کرنے کا ٹاسک سونپا گیا اس وقت وہ نیوی سیلز کو غوطہ خوری کی تربیت دینے میں مصروف تھا۔

برطانوی اخبار’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق اونیل کا کہنا ہے کہ جب اسے کہا گیا کہ آپ کو ایک مشکل مشن پربھیجا جا رہا ہے تو میرے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوئے کہ آیا مشکل مشن کون سا ہوسکتا ہے؟ بعض ساتھیوں کا خیال تھا کہ ہمیں لیبیا کے سابق مرد آہن معمر قذافی کی گرفتاری کا ٹارگٹ دیا جا رہا ہے لیکن آخر کار پتا چلا کہ مشن اس سے بھی خطرناک ہے۔ وہ یہ کہ ہمیں القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کےایبٹ آباد میں واقع اس کمپائونڈ تک پہنچ کر انہیں قتل یا گرفتار کرنا ہے جہاں وہ کچھ عرصے سے روپوش ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں