سوڈان کا ایران سے ناطہ توڑنے میں شہزادہ محمد بن سلمان کا کردار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سوڈان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے۔ ریاض سے ناراضی کا فطری نتیجہ خرطوم کی ایران سے قربت کا باعث بھی بنتا رہا مگر سعودی عرب کے موجودہ وزیردفاع اور خادم الحرمین الشریفین کے فرزند ارجمند نےشہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنی ’کرشماتی‘ اور ’طلمسی‘ سفارت کاری کے ذریعے سوڈان کوایک بار پھر ایران کی گود سے نکال کرعرب اتحاد کا حصہ بنا دیا۔

اگست سنہ 2013ء میں سوڈانی صدر محمد عمر البشیر نے سعودی عرب کی فضاء کو استعمال کرتے ہوئے ایران جانے کا قصد کیا تو ریاض نے ان کے طیارے کو اپنی فضاء سے سے پرواز کرنے سے روک دیا۔ اس واقعے نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا کی اور خرطوم تہران کے مزید قریب ہوگیا۔

اس وقت سوڈان یمن میں ایران نواز حوثی زیدی اہل تشیع کی بغاوت ختم کرنے کے لیے سعودی عرب کے شانہ بہ شانہ آپریشن “فیصلہ کن طوفان” میں شامل ہے۔ دو سال میں ایسا کیا ہوا کہ سوڈان نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور ایران کے بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنی دوستی مستحکم کرلی؟ اس کا ’کریڈٹ‘ وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو جاتا ہے جن کی کامیاب سفارت کاری نے سوڈان جیسے ایک بڑے ملک کو عرب دنیا کے ساتھ جوڑتے ہوئے خرطوم کا تہران کے ساتھ ناطہ توڑ دیا۔ اب سوڈان بھی اس عرب اتحاد کا حصہ ہے جو اس وقت یمن میں حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کے خلاف نبرد آزما ہے۔

سوڈان اور سعودی عرب کے درمیان ’’قربت‘‘ اس وقت پیدا ہوئی جب حال ہی میں سوڈانی صدر عمر البشیر نئے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے لیے ریاض آئے۔ ان کی ریاض آمد کو نہ صرف سعودی عرب بلکہ عرب دنیا کے ذرائع ابلاغ نے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا۔ شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد صدر البشیر کی وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے طویل نشست ہوئی۔ اس نشست میں شہزادہ محمد سوڈانی صدر کو ایران سے ناطہ توڑنے اور ریاض سے دوستانہ مراسم پھر سے بحال کرنے پر قائل کرلیا۔

اگرچہ کسی ایک ملاقات میں اتنی بڑی سفارتی تبدیلی کا امکان کم تھا ہی مگر خرطوم اور ریاض کے درمیان فاصلے قائم رکھنے کی حامی قوتوں کے لیے ناقابل یقین واقعہ بھی تھا۔ شہزادہ سلمان کی ’قائل کُن‘ گفتگو نے سوڈانی صدر کو بھی یہ باور کرادیا کہ خرطوم کا مفاد تہران سے زیادہ سعودی عرب اور دیگر عرب اقوام سے تعلقات سے وابستہ ہے۔ یوں سنہ 1980ء کے بعد سے خرطوم اور تہران کے درمیان چلے آئے دوستانہ مراسم پر پہلی کاری ضرب اس وقت لگی جب صدر البشیر نے ایران نواز یمنی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے فوجی آپریشن میں عملا شمولیت کا فیصلہ کیا۔

سوڈانی صدر نوجوان سعودی وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر میں ایران کے اتحادی کی شکل میں آئے اور واپس سعودی عرب کے اتحادی کی شکل میں ہوئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ سوڈانی صدر نے یمن میں حوثیوں کی مسلح بغاوت کے خلاف اپنا سارا وزن سعودی عرب کے پلڑے میں ڈال دیا۔ انہوں نے کھل کر حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن میں شمولیت کا اعلان کرکے ایران کو یہ پیغام دیا کہ اب خرطوم اور تہران کے درمیان تعلقات ایک نئے موڑ میں داخل ہوگئے ہیں۔ خرطوم اب ایران کی گود میں بلکہ عرب دنیا کے طاقت ور اتحاد کا حصہ بن چکا ہے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی’’بلومبرگ ویو‘‘ کی رپورٹ میں عرب ممالک کے اتحاد کے باب میں سعودی عرب کی سیاسی مساعی اور کامیاب سفارت کاری کو تسلیم کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خرطوم کا ریاض سے غیرمعمولی فوجی تعاون سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری اور وسیع ترسیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ جس تیزی کے ساتھ سوڈان نے سعودی عرب سے اتحاد کیا ہے، اس کا امکان بہت کم تھا۔

سوڈان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعاون میں شہزادہ محمد بن سلمان کی مساعی کو نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جائے گا کیونکہ جس خلوص نیت کے ساتھ انہوں نے خرطوم کو قائل کیا ہے یہ ان کی سیاسی اور سفارت مہارت کا آئینہ دار ہے۔

سوڈان میں ایران کے اثرو رسوخ میں اضافے کی تاریخ کئی عشروں پر محیط ہے مگر سنہ 1984ء میں تہران نے خرطوم میں اپنا ثقافتی مرکز قائم کرکے سوڈان میں کھلے عام مداخلت کا باضابطہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ چند ہفتے قبل تک کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ خرطوم اور تہران کے درمیان تعلقات میں کبھی دراڑ پیدا ہوسکتی ہے، لیکن شہزادہ محمد سلمان کی ایک ملاقات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size