جواد ظریف کا امریکا کی ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوششوں کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جنہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی تھی، انھون نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا اور کہا کہ واشنگٹن تہران پر اپنی شرائط مسلط کرنا چاہتا ہے۔

ظریف جنہوں نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ براہِ راست اور طویل مذاکرات کیے تھے، نے کہا: کم از کم ایران کے ساتھ کوئی بھی مذاکرات اس بنیاد پر کامیاب نہیں ہو سکتے کہ ہماری شرائط کے مقابلے میں آپ اپنی شرائط رکھیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر ہفتے سے شروع ہو کر اتوار کی صبح تک جاری رہنے والے مذاکرات کے اختتام کے چند گھنٹوں بعد لکھا: امریکا کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ایران پر شرائط مسلط نہیں کی جا سکتیں۔ ابھی بھی سیکھنے میں دیر نہیں ہوئی۔

پاکستان میں ہونے والے ان امن مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی مجلسِ شورٰی کے چیئرمین محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔

یہ مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ یہ سب اس دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ہوا جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد 7 اپریل کی رات سے نافذ ہوئی تھی۔

امریکی خبر رساں ادارے ''اکسیوس'' کے مطابق مذاکرات سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ اختلافات میں ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا مطالبہ اور اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے سے انکار شامل تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں فریق دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے یا نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد جنگ بندی کا کیا مستقبل ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں