صالح نے القاعدہ کو اقتدار کی طوالت کے لئے استعمال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے معزول صدر اور 32 سال تک ملک کے سیاہ وسفید کے مالک رہنے والے علی عبداللہ صالح کی ہوس اقتدار ابھی تک ختم نہیں ہوئی اور وہ اپنے سابقہ دشمنوں کے ساتھ مل کر ملک کی آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشوں کے مرتکب قرار دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب مبصرین نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدرعلی صالح شدت پسند تنظیم ’’القاعدہ‘‘ کواپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ایک پتے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مبصرین کا خیال ہے کہ سابق صدرعلی صالح نے اقتدار کومضبوط بنانے کے لیے القاعدہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عالمی مدد کے حصول کا ڈرامہ رچائے رکھا۔ القاعدہ کی سرکوبی اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ سنجیدہ نہیں تھے بلکہ انہوں نے القاعدہ کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اسے ایک پتے کے طور پر استعمال کیا۔

ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح عالمی برادری اور پڑوسی ممالک کو القاعدہ کے خلاف جنگ اور انسداد دہشت گردی کا چکما دیتے رہے لیکن عملا انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں حاصل ہونے والی مالی اور عسکری امداد کو اپنے اقتدار کوطول دینے کے لیے استعمال کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ علی عبداللہ صالح کی حکومت کے آخری دس برسوں کے دوران القاعدہ کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ امریکا اور بعض دوسرے ممالک کی جانب سے یمن میں القاعدہ کے خلاف فضائی حملوں کے باوجود علی صالح کی کوشش رہی کہ شدت پسند تنظیم کو شکست دینے کے بجائے اسے میدان میں زندہ رکھا جائے تاکہ اس کی آڑ میں عالمی برادری ان کی حکومت کو’’سپورٹ‘‘ کرتی رہے۔ یوں انہوں نے اپنی حکومت اور ہمنوا قبائل کے ذریعے القاعدہ کی لاجسٹک مدد بھی کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق صدر کی جانب سے لحج گورنری کے’’العند‘‘ اور الحدیدہ کے ’’القاعدہ فوجی اڈے‘‘ امریکا کے حوالے کررکھے تھے جہاں سے امریکی فوج کے بغیر پائلٹ ڈرون طیارے ملک کے مختلف علاقوں میں القاعدہ کے مراکز اور اہم شخصیات پر حملے کرتے تھے۔

حال ہی میں حضرت موت صوبے کے المکلاء شہر پرالقاعدہ کے قبضے سے بھی علی صالح کی در پردہ سازش کا پتا چلتا ہے۔ القاعدہ نے المکلا شہر پرقبضے کے بعد وہاں کی جیل میں قید اپنے کئی خطرناک قیدیوں کو چھڑالیا تھا۔ القاعدہ کے اس حملے میں علی صالح اور ان کے وفاداروں کی معاونت بتائی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں