نیپال میں زلزلے سے 1100 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

بھارت، نیپال کو زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں میں مدد کی پاکستانی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نیپال میں شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 11 سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور خدشہ ہے کہ اس سے کہیں زیادہ لوگ تباہ عمارتوں کے ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔

نیپال میں ہفتہ کو آنے والے طاقتور زلزلے سے 1160 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں، جب کہ کٹھمنڈو میں بعض عمارتوں کے منہدم ہونے سے سینکڑوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی جب کہ اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ یہ شدت 7.9 تھی۔ زلزلے کا مرکز دارالحکومت کٹھمنڈو سے 80 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔

وسطی کٹھمنڈو میں درجنوں افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جو دیواریں اور چھتیں گرنے سے زخمی ہوئے۔

ذرائع ابلاغ پر عمارتوں اور سڑکوں میں پڑنے والی دراڑوں کے علاوہ دیگر نقصانات کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں اور جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل، ہفتے کی صبح نیپال میں حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 876 بتائی تھی۔ ادھر بھارت میں 34، جب کہ بھوٹان، تبت اور چین کے سرحدی علاقوں سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، نیپال اور بھارت اور پاکستان کے ہمسایہ ملکوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

نیپال میں سرکاری ریڈیو پر اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ لوگ عمارتوں سے دور رہیں کیونکہ زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں کا سلسلہ اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔

کٹھمنڈو کا ہوائی اڈہ پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور جب کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے بھارت کے علاوہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ لوگ خوفزدہ ہو کر اپنے گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

بھارت کی ریاست بہار میں زلزلے کے باعث کم ازکم 20 افراد کی ہلاکت اور 35 کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نیپال میں 1934 کے بعد آنے والے یہ سب سے شدید ترین زلزلہ ہے۔

پاکستان نے نیپال میں آنے والے شدید زلزلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں میں ہاتھ بٹانے کی پیش کش کی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف جو ان دنوں لندن میں ہیں، اُنھوں نے ایک بیان میں نیپال اور بھارت میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

سرکاری بیان میں پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے زلزلے سے نیپال اور بھارت میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان ممالک کے عوام سے اظہار ہمدردی کیا گیا۔

پاکستان کی وفاقی حکومت کی طرف سے نیپال اور بھارت میں اپنے سفارت خانوں سے کہا گیا کہ وہ ان دونوں میزبان ممالک کی حکومتوں سے رابطہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اُن کی امداد کی ضروریات کیا ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں آفات سے نمٹنے کا قومی ادارہ ’نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی‘ مختصر نوٹس پر امدادی سامان بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں