.

"یمن میں انسانی بحران پیدا ہونے کا اندیشہ "

حوثی گولا بارود ہسپتالوں میں ذخیرہ کر رہے ہیں: یمنی وزیر برائے انسانی حقوق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں جاری بحران کے باعث تقریبا 90 لاکھ شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کی فوری ضرورت ہے۔

عزالدین الاصباحی نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمن میں جاری امدادی اداروں کے کاموں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔ حوثیوں کی گولا باری میں ہسپتالوں اور طبی عملے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

الاصباحی نے یہ بات الریاض میں یمنی سفارتخانے میں 'یمنی ہائی ریلیف کمیٹی' سے متعلق پریس کانفرنس میں کی۔ ان کے مطابق ہسپتالوں کے پاس بجلی یا جنریٹروں کے لیے تیل نہیں ہے جس سے آپریشز کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے اور وہ ایمبولینسیں بھی نہیں چلا سکتے ہیں۔

یمنی وزیر کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوج ہسپتالوں، کلینکس اور سکولوں کو اسلحہ گودام میں تبدیل کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اتحادی فوج اپنے فضائی حملوں کے اہداف میں ان مقامات کو شامل کر رہی ہے۔

الاصباحی کے مطابق حوثیوں کی جانب سے عدن کے محاصرہ کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی بند ہو گئی ہے اور شہر کے بڑے حصے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں۔ ایندھن کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہسپتالوں کے جنریٹر بھی کام نہیں کررہے ہیں۔

یمنی وزیر کے مطابق ملک بھر میں 365000 گھر مکمل طور تباہ ہو چکے ہیں اور ملک کے طول و عرض میں بے گھر افراد کی تعداد 250٫000 ہو گئی ہے۔ اصباحی کا کہنا تھا "یہ بدترین صورتحال ہے۔ یمن 100 سال پیچھے جا چکا ہے۔"

یمن کے وزیر ٹرانسپورٹ بدر باسلمہ نے بھی یمن میں بگڑتی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ 25000 یمنی مہاجرین دوسرے ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ باسلمہ نے بتایا کہ "یمن عبد ربہ منصور ہادی کے حامی اتحاد کے ساتھ معاونت کرتے ہوئے یمنی شہریوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے۔"

دریں اثناء ریڈ کراس نے بتایا ہے کہ یمن میں انسانی صورتحال تباہ کن ثابت ہو گئی ہے۔ ریڈ کراس کی ترجمان میری کلئیر فیغالی نے بتایا کہ "صورتحال پہلے ہی خراب تھی مگر اب تو اس حوالے سے ہمارے پاس الفاظ ہی نہیں جو صورتحال کا احاطہ کر سکیں۔"