.

سعودی اتحاد کی عدن میں زمینی فوجی کارروائی کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں حوثی باغیوں کے خلاف بڑی زمینی کارروائی شروع کرنے سے متعلق اطلاعات کی تردید کردی ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے اتوار کو ایک بیان میں یمنی ذرائع کی ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اتحادی فوج کے زمینی دستے عدن پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے وہاں کارروائی شروع کردی ہے۔

احمد العسیری نے کہا ہے کہ ''عدن میں کوئی غیرملکی فوجیں موجود نہیں ہیں لیکن سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد حوثی ملیشیا کے خلاف لڑائی میں مدد جاری رکھے گا''۔

قبل ازیں فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے ایک یمنی عہدے دار کے حوالے سے بتایا تھا کہ ''اتحادی فورس کا ایک محدود دستہ عدن میں داخل ہوچکا ہے اور وہاں مزید فوج بھی آرہی ہے''۔

ایک یمنی اخبار الغد نے بھی اپنے خبرنگاروں کے حوالے سے اتوار کو یہ اطلاع دی ہے کہ عرب زمینی فوج کا دستہ آج صبح عدن پہنچ گیا ہے اور اس نے لڑائی میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔یہ اخبار یمن کے علاحدگی پسندوں کا حامی سمجھا جاتا ہے جو جنوبی یمن میں ایک مرتبہ پھر مکمل خودمختاری بحال کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

عدن میں گذشتہ کئی ایک ہفتوں سے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور مسلح قبائلیوں کی حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے۔حوثی باغیوں نے صنعا پر قبضے کے بعد عدن کی جانب یلغار کی تھی۔انھیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کی حمایت بھی حاصل ہے۔وہ بھرپور حملے کے باوجود عدن پر قبضہ نہیں کرسکے ہیں اور صدر منصور ہادی کے وفادار فوجی ان کی شدید مزاحمت کررہے ہیں۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے 26 مارچ سے حوثی باغیوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ ان کے زمینی دستوں کی عدن میں موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔سعودی اتحاد نے 21 اپریل کو حوثی باغیوں پر فضائی حملے روک دیے تھے لیکن اس کے بعد یمن کے مختلف علاقوں میں حوثی باغیوں نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی تھی جس کے پیش نظر اتحادی طیاروں نے بھی ان پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔