جنگ پسند حوثیوں نے بچوں سے کتاب لیکر بندوق تھما دی

باغی جنگجوئوں کی ایک تہائی تعداد بچوں پر مشمل ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے حال ہی میں یمن کے حوثی شدت پسندوں کے ہاتھوں کم عمر بچوں کو جنگ میں جھونکے جانے کی مکروہ ہتھکنڈے کا انکشاف کیا جس کے بعد حوثیوں نے بھی اعتراف کیاہے کہ ان کی صفوں میں جنگ میں شریک ایک تہائی افراد کی عمریں 13 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔

امریکی اخبار’’واشنگٹن پوسٹ" نے سب سے پہلے حوثیوں کے اس غیر قانونی طرز عمل کا بھانڈا پھوڑا اور بتایا کہ جنگ پسند حوثی اپنی افرادی قوت پوری کرنے کے لیےاسکولوں کی چھوٹی کلاسوں میں زیر تعلیم بچوں کو بھی جنگ میں جھونک رہے ہیں۔ حوثیوں نے اپنی جنگی ہوس گیری کے لیے بچوں سے قلم وکتاب چھین کر ان کے ناتواں کاندھوں پر بندوق رکھ دی ہے۔ ان سے اسکول کے یونیفارم چھین لیے گئے ہیں۔ اب وہ فوجی وردی پہن کر محاذ جنگ میں شریک ہیں۔

میڈٰیا رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں اور علی صالح کی وفادار ملیشیا نے یمن قوم کے خلاف اپنے بدترین مظالم میں ایک ظلم اسکول کے بچوں کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے۔ یہ ظلم انہیں تعلیم کے زیور سے محروم کرکے جنگ کے ایندھن میں تبدیل کرنے کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ حوثیوں اورعلی صالح کے حامیوں نے ملک کے طول وعرض میں موجود اسکولوں میں پڑھنے والے ہزاروں بچوں کے اسکول یونیفارم اتار کر اُنہیں فوجی وردیاں پہنا دی ہیں اور ان کے ناتواں ہاتھوں میں بندوقیں پکڑائی گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یمن میں اس وقت حوثی جنگجوئوں کی کل تعداد 25 ہزار کے لگ بھک ہے جس کا ایک تہائی ایسے بچوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں محض 13 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حوثی شدت پسندوں کی جانب سے اپنی صفوں میں کم عمر بچوں کو بھرتی کرنے کا دھندہ نیا نہیں بلکہ سنہ 2004ء کے بعد شروع ہونے والی لڑائیوں کے دوران بھی بڑی تعداد میں بچوں کو جنگوں میں جھونکا جانے لگا تھا۔ حوثیوں کی جانب سے یہ اعتراف کیا جانے لگا ہے کہ وہ بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ تاہم حوثیوں یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی بھی کوششیں کیں کہ بچوں کو براہ راست محاز جنگ پر نہیں رکھا گیا بلکہ نہیں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر تلاشی کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

حوثیوں کے علاوہ القاعدہ کے دہشت گرد بھی یمن میں بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرتے رہے ہیں۔ دونوں شدت پسندوں کی جانب سے جنگ کے لیے بھرتی کیے گئے بچوں کو فی کس ماہانہ 100 ڈالر تک رقم بھی ادا کی جاتی رہی ہے۔ چونکہ یمن کی نصف سے زاید آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسرکررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند پیسوں کے عوض جنگجو گروپوں کو بچوں کو بھرتی کرنا اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔

پیسے کا لالچ اور طاقت کے استعمال کی دھمکیاں یمنی شہریوں کو اپنے بچوں کو جنگجو گروپوں کے حوالے کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔ سیکڑوں بچوں کو سال ہا سال تک مختلف جنگی محاذوں پر رکھ کرانہیں جسمانی اور نفسیاتی طورپر بھی معذور کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں