.

ملائیشیا: اغلام باز اپوزیشن لیڈر کی نشت اہلیہ نے جیت لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا میں مبینہ طور پر اغلام بازی جیسے مکروہ اخلاقی جرم کی پاداش میں قید سابق اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کی اہلیہ وان عزیزہ وان اسماعیل اپنے شوہر کی خالی ہونے والی نشست پر قائد حزب اختلاف مقرر ہوئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 62 سالہ وان عزیزہ اسماعیل اپوزیشن بلاک کی سات سال بعد دوسری مرتبہ سربراہ مقرر ہوئی ہیں۔ توقع ہے کہ عزیزہ اسماعیل اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنھبالنے کے بعد اپوزیشن کے تین دھڑوں میں پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

حال ہی میں اپنے شوہر کی سزا کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے حامیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وان عزیزہ کا کہنا تھا کہ انتخابات میں ان کی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ان کے اسیر شوہر انور ابراہیم کی اصلاحات کا عمل آگے بڑھانے کے حامی ہیں۔

وان عزیزہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے ساتھ چھ بچوں کی ماں ہیں۔ انہوں نے رواں ماہ اپنے شوہر کی خالی ہونے والی سیٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا جس میں وہ بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی تھیں۔ یہ سیٹ فروری میں اپوزیشن رہ نما 68 سالہ انور ابراہیم نے اس وقت خالی کر دی تھی جب ان پر اغلام بازی جیسے سنگین اخلاقی جرم کا الزام عاید کرتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ملائیشین عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے تحت انور ابراہیم پانچ سال قید پوری کرنے کے بعد سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ وان عزیزہ پہلی مرتبہ سنہ 1999ء میں پہلی بار پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ اس وقت بھی ان کے شوہر کو کرپشن اور اخلاقی نوعیت کے الزامات کےتحت نائب وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ انور ابراہیم نےانہی الزامات کے تحت چھ سال قید میں گذارے۔ سنہ 2013ء میں انور ابراہیم کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے دوبارہ کامیابی حاصل کی لیکن حکمراں اتحاد کا پلڑا بھاری رہا اور انور حکومت نہ بنا سکے۔

پچھلے سال اپوزیشن اتحاد میں شامل حزب الاسلامی مذہبی جماعت نے ایک ریاست میں سخت گیر اسلامی شرعی سزائوں کے نفاذ کا مطالبہ کیا تو اپوزیشن میں پھوٹ پڑ گئی تھی۔ وان عزیزہ اسماعیل کی ایک 34 سالہ بیٹی نور العزہ بھی ملائیشین پارلیمنٹ کی رکن ہیں۔