تیونس عجائب گھر پر حملے کا مشتبہ ملزم اٹلی میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اٹلی میں پولیس نے ایک مراکشی شخص کو تیونس کے باردو عجائب گھر پر 18 مارچ کو حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔اس حملے میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اٹلی کے شہر میلان میں انسداد دہشت گردی کے اعلیٰ تفتیش کار برونو میجال نے بدھ کو ایک نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ مشتبہ ملزم عبدالماجد طوئل کو منگل کی رات تیونس کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کی بنیاد پر گاگیانوں کے علاقے میں واقع اس کی والدہ اور دو بھائیوں کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

قبل ازیں اس کے بارے میں اطالوی حکام کو اطلاع ملی تھی کہ وہ 17 فروری کو تارکین وطن کے ساتھ انسانی اسمگلروں کی ایک کشتی پر بیٹھ کر لیبیا کے راستے اٹلی آیا تھا۔برونو مجال نے بتایا کہ اس کو حکام نے سسلی کی بندرگاہ پورٹو ایمپیڈوکل پر شناخت کرلیا تھا اور وہاں سے اس کی بے دخلی کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔

اب یہ واضح نہیں ہے کہ آیا تب اس کو اٹلی سے بے دخل کیا گیا تھا یا نہیں۔تاہم اطالوی پولیس کو یقین ہے کہ وہ واپس تیونس چلا گیا تھا جہاں اس نے 18 مارچ کو دارالحکومت تیونس میں غیرملکی سیاحوں پر حملے کو منظم کرنے میں مدد دی تھی۔

تیونس کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری میں طوئل پر اقدام قتل ،ریاست کے خلاف حملے کی سازش میں ملوث ہونے ،ایک دہشت گرد گروپ سے تعلق اور دوسروں کو دہشت گردی کے حملوں کے لیے بھرتی کرنے اور تربیت دینے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔مسٹر برونو کے بہ قول وہ باردو میوزیم پر حملے کی منصوبہ بندی اور اس کو انجام تک پہنچانے کے الزام میں دنیا بھر میں مطلوب تھا۔

واضح رہے کہ عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے تیونس کے اس تاریخی عجائب گھر پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔آتشیں ہتھیاروں سے مسلح افراد نے باردو میوزیم کے مرکزی دروازے پر بسوں سے اترنے والے غیرملکی سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی اور اس کے بعد وہ اس کے اندر داخل ہوگئے تھے اور انھوں نے وہاں موجود لوگوں پر بھی فائرنگ کی تھی۔پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔

تیونسی پولیس نے اس حملے کے الزام میں اب تک بیس سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے لیکن وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس کا ماسٹر مائنڈ ابھی تک مفرور ہے۔تیونسی حکام عبدالماجد کو اس حملے کا ماسٹر مائنڈ خیال نہیں کرتے ہیں۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی عروی کا کہنا ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر اس حملے میں ملوث تھا اور اس نے حملہ آوروں کی معاونت کی تھی۔اب تیونس اس کو اٹلی سے واپس لانے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔عروی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ کہ باردو عجائب گھر پر حملے میں دو مراکشی اور دو الجزائری شہری ملوّث تھے لیکن فائرنگ صرف تیونسی حملہ آوروں نے کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں