.

فرانس اور سعودی عرب کے درمیان 12 ارب ڈالرز کے معاہدے

سعودی عرب کی فرانس سے جوہری ری ایکٹروں کی خریداری کے لیے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور فرانس نے بارہ ارب ڈالرز مالیت کے اسلحے اور دفاعی سازوسامان کے مختلف معاہدوں سے اتفاق کیا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب لوراں فابیئس کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے فرانسیسی قیادت کے ساتھ اسلحے کی خریداری سے متعلق ان سمجھوتوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ نے اس موقع پر بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ائیربس ایچ 145 کے تئیس ہیلی کاپٹروں سمیت دس سمجھوتے طے پائے ہیں۔ان ہیلی کاپٹروں کی مالیت پچاس کروڑ ڈالرز ہوگی۔

فرانسیسی ساختہ ایچ 145 ہیلی کاپٹروں کا پرانا نام ای سی 145 ہے۔دو انجنوں والا یہ ہلکا کاپٹر عام طور پر ایمرجنسی خدمات اور سرحدوں کی فضائی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جوہری ری ایکٹر

لوراں فابیئس نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب اپنے ہاں دو جوہری ریکٹروں کی تعمیر کے لیے فرانس کے ساتھ فزیبلٹی اسٹڈی کے سمجھوتے پر بھی دستخط کرنا چاہتا ہے۔

عادل الجبیر نے ان جوہری ری ایکٹروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب فرانس سے جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے۔

درایں اثناء سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ''وہ فرانس سے ڈی سی این سی کی تیارکردہ بحری کشتیوں کی قیمت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کررہے ہیں''۔یہ کشتیاں سمندر میں گشت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور سعودی عرب فرانس سے یہ کشتیاں بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب اور فرانس کے درمیان دفاعی شعبے میں طے پانے والے ان سمجھوتوں سے دونوں ملکوں میں بڑھتے ہوئے تعلقات کی بھی عکاسی ہوتی ہے اور یہ فرانس کے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کے بھی مظہر ہیں۔یہ معاہدے مئی میں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کے سعودی عرب میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہ اجلاس میں شرکت اور خطاب کے تناظر میں طے پائے ہیں۔وہ پہلے غیرملکی سربراہ ریاست تھے جن کو جی سی سی کے فورم میں مہمان سربراہ کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔

معاہدے کی تفصیلات سے باخبر 'العربیہ' ذرائع کا کہنا ہے کہ براہ راست خریداری کے لئے مختص ایک ارب ڈالر سے ہٹ کر باقی گیارہ ارب ڈالر براہ راست سرمایہ کاری شمار ہو گی۔ یہ معاہدے دونوں ملکوں کے اعلی حکام کے درمیان براہ راست مذاکرات اور بغیر کسی تیسرے فریق کی مدد کے طے پانے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا "کہ سعودی عرب نے فرانس سے ہیلی کاپٹر مناسب قیمت ہونے کی وجہ سے خریدنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم ریاض نے دورے کے دوران پیش کئے دیگر آئیٹمز مہنگے داموں کی وجہ سے خریدنے سے انکار کر دیا۔"