شہزادی شارلٹ کی دریائے اُردن کے پانی سے رسمِ بپتسمہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانیہ کے شاہی خاندان نے 2 مئی 2015ء کو شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کے ہاں پیدا ہونے والی شارلٹ الیزابیتھ ڈیانا کی حسب روایت دریائے اردن سے لائے گئے پانی رسم بپتسمہ ادا کر کے نومولودہ کو باضابطہ طور پر عیسائی مذہب کی پیروکار بنا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عیسائی مذہب کے طریقہ کار کے مطابق بپتسمہ کی رسم اتوار کو سینڈر ینگھم کے پہلو میں شمالی انگلیڈ کے "نورفولک" کے مقام پر واقع "میری میڈلین چرچ" میں ادا کی گئی۔ رستم بپتسمہ کی ادائی کے لیے ریوی بلڈنگ کے قریب Anmer Hall کو مختص کیا گیا تھا۔ وہیں پر شہزادی شارلٹ نے دو مئی دو ہزار پندرہ کو آنکھ کھولی تھی۔ اس کی والدہ نو مولودہ کے بھائی دو سالہ شہزادہ جارج کے ہمراہ دو مئی سے وہیں مقیم ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں نومولودہ کی دادی ملکہ الیزابتھ دوم ہر سال اپنی سالگرہ کی تقریب منعقد کرتی ہیں۔

عیسائی مذہب میں "بپتسمہ" ایک ایسی روایت ہے جو دو ہزار سال سے جاری ہے۔ اس رسم کے مطابق ہر نئے پیدا ہونے والے عیسائی بچے کو اپنے مذہب سے جوڑنے کے لیے اسے دریائے اردن کے پانی سے نہلایا جاتا ہے۔ بپتسمہ پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے ہاں عیسائیت کے دو میں سے ایک اہم راز جب کہ کیتھولک اور آرتھوڈوکس کے سات میں سے ایک اہم راز ہے۔ بپتسمہ کی رسم کی ادائیگی کے بعد بچے کو باضابطہ عیسائی مذہب کے پیروکار کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ بچے ہر قسم کی الائشوں اور خطائوں سے پاک ہوتے ہیں لیکن بپتسمہ کی رسم کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ بچہ مزید پاک صاف ہونے کے بعد ایک نئی زندگی شروع کررہا ہے اور اس کے بعد اس کی پوری زندگی مسیحیت کے تابع ہوگی۔

اناجیلی تاریخی روایات کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کو بپتسمہ بنی اسرائیل کے پیغمبر "یوحنا [حضرت یحییٰ] نے 2000ء سال قبل دیا تھا۔ انہوں نے بھی بپتسمہ کے لیے دریائے اردن کا پانی استعمال کیا۔ عیسائی اسی طریقے کو نبی کی سنت کے طور پر آج تک چلاتے آرہے ہیں۔ اگرچہ بعض گروپ دریائے اردن کے پانی سے نہلانے کو بپتسمہ کا نام دیتے ہیں جب کہ بعض کا خیال ہے کہ محض چہرے یا جسم پر پانی کا چھڑکائو ہی کافی ہوتا ہے۔ چھڑکائو کے حامی عیسائی مسلک کا کہنا ہے کہ کینٹر بری اساقفہ [بشپس] کے سربراہ اور انگلینڈ چرچ کے بشپ جاسٹن ویلبی کا بپتسمہ بھی دریائے اردن کے پانی سے چھڑکائو کے ذریعے کیا گیا تھا۔

دریائے اردن کے پانی کی مسیحی مذہب کے ہاں اہمیت کی وجہ سے آج تک یہ دریا اپنے ساتھ کئی تاریخی روایات کو ساتھ لے کر بہہ رہا ہے۔ عیسائی اسے ایک مقدس دریا کا درجہ دیتے ہیں اور اس میں نہانے کو گناہ سے پاکی کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ اردن کے دارالحکومت عمان سے 59 کلومیٹر دور وادی الخرار سے کچھ ہی فاصلے پر واقع بی عنیا کا بپتسمہ مرکز 'ویٹیکن' کے نزدیک بھی اہم مذہبی مقام ہے۔ آنجہانی بشپ یوحنا بولس دوم نے سنہ 2000ء میں باضابطہ طور پر اس جگہ کا دورہ کیا اور دریائے اردن کے پانی سے غسل کیا۔ انہوں نے اس جگہ کو عیسائیوں کے حج کا مرکز قرار دیا جہاں ہرسال ایک لاکھ عیسائی مذہبی رسومات کی ادائی کے لیے آتے ہیں۔

اردن میں دریائے اردن کے کنارے واقع "بپستمہ" مرکز کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت "یونیسکو" نے 'جہاں ہے جیسے ہے' کی بنیاد پر عالمی تاریخی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ اس مقام پر پانی کے تین چشمے جاری ہیں جو تینوں دریائے اردن میں بہتے ہیں۔ یہاں لاکھوں عیسائی ہر سال اپنے نومولودوں کو بپتسمہ دینے آتے ہیں۔ اگر کوئی اہم شخصیت یہاں نہ پہنچ سکے تو وہ اپنے بچے کے بپتسمہ کے لیے اس دریا کا پانی منگوا لیتے ہیں۔ شہزادی شارلٹ کے بھائی شہزادہ جارج کو بھی اکتوبر 2013ء میں دریائےاردن سے منگوائے پانی سے بپتسمہ دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں