ایران ڈیل سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا: اوباما
ایران سے دہشت گردی اور گماشتہ تنظیموں کی پشتی بانی پر اختلافات برقرار رہیں گے
امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے بغیر مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کے بہت زیادہ خطرات ہوں گے۔
انھوں نے یہ بات ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان طویل مذاکرات کے نتیجے میں جوہری معاہدہ طے پانے کے ایک روز بعد بدھ کو وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کے دوران کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ طے نہیں پاتا تو مشرق وسطیٰ میں مزید جنگوں کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔اس کے بغیرجوہری اسلحے کی دوڑ شروع ہونے کے بھی امکانات برقرار رہتے اور ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے قریب پہنچ جاتا۔
انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس ڈیل کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے کیونکہ ہماری زندگی میں یہ موقع شاید دوبارہ نہ آئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیل سے ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو جاری رکھنے کے تمام راستے مسدود کردیے گئے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر معاہدے کے حوالے سے خطے میں اپنے اتحادیوں سعودی عرب اور اسرائیل کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے اور انھوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے اس ضمن میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ''ڈیل کے بغیر عالمی پابندیاں بھی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوں گی ۔اس ڈیل کے ذریعے ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو درپیش ایک بڑے خطرے کو پُرامن طریقے سے ٹال دیا ہے''۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ڈیل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں مزید جنگوں کے خطرات لاحق تھے اور دنیا کے پُرخطر خطے کے دوسرے ممالک بھی اپنے جوہری پروگراموں پر عمل پیرا ہوجاتے۔
صدر اوباما نے واضح کیا کہ اس ڈیل کے باوجود ایران کے ساتھ اس کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور مشرق وسطیٰ کے بعض حصوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے گماشتہ تنظیموں کو استعمال کرنے کے معاملے پر ہمارے اختلافات برقرار رہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ''ایران اب بھی ہمارے مفادات اور اقدار کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔امریکا کے یہ قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ ایران کو لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور یمن کی حوثی ملیشیا کو اسلحہ بھیجنے سے روکا جائے''۔
براک اوباما نے نیوز کانفرنس کے دوران توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی کانگریس اس ڈیل کی جلد منظوری دے دے گی۔تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ ڈیل کو بلاک کرنے کی کسی بھی کوشش کو ویٹو کردیں گے۔کانگریس میں حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے اور اس کے ارکان ایران کے ساتھ طے پائے اس معاہدے کی مخالفت کررہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں بہت سے سقم موجود ہیں۔خاص طور پرجوہری تنصیبات کے معائنے کے طریق کار کو ایران اپنے مفاد میں استعمال کرسکتا ہے۔جوہری پروگرام پر قدغنوں کے جواب میں امریکا ،اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے ایران پر عاید پابندیاں ختم ہوجائیں گی اور نتیجۃً وہ اپنے غیر منجمد ہونے والے اثاثوں کو شام ،عراق اور یمن میں اپنی گماشتہ تنظیموں اور جنگجو گروپوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرسکے گا۔ان ممالک میں جاری خانہ جنگیاں اور تنازعات ایران کی مداخلت کی وجہ سے بدترین فرقہ وارانہ شکل اختیار کرچکے ہیں۔