تیونس نے 'تاریخی' انسداد دہشت گردی قانون منظور کرلیا
تیونسی پارلیمان نے ایک نیا انسداد دہشت گردی قانون منظور کیا ہے جس کے ذریعے سے داعش کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے خطرے کا سامنا کیا جاسکے گا۔
عالمی خبررساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق اس قانون کو تین دن بحث کے بعد منظور کیا گیا اور 174 ارکان کے ایوان میں دس ارکان نے ووٹںگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ کسی بھی رکن نے اس بل کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔
اسمبلی کے سربراہ محمد الناصر نے اس قانون کی منظوری کو ایک 'تاریخی' مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ اس قانون سے تیونس کے شہریوں کا اعتماد بحال ہوگا۔
یہ قانون داعش کی جانب سے 26 جون کو تیونس کے ایک ساحل پر دہشت گرد حملے کے بعد سامنے آیا تھا جس میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 38 غیر ملکی سیاحوں کو ہلاک کردیا تھا۔
اس سے پہلے ماہ مارچ میں بھی تیونس کے دارالحکومت تونس میں باردو میوزیم پر داعش نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 21 سیاح ہلاک ہوگئے۔
اس قانون کو سیکولر اور اسلام پسند پارٹیوں کی طرف سے یکساں حمایت حاصل تھی مگر سول سوسائٹی اور این جی اوز نے اس قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس قانون کے نقادوں نے 25 سال تک سزائے موت پر پابندی کے بعد اب اس قانون کے ذریعے سے مختلف جرائم کی پاداش میں سزائے موت کی سزا رکھنے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اس قانون کے نتیجے میں حکام کو ملنے والی طاقت پر بھی سوال اٹھایا۔ بل کے مطابق سیکیورٹی اہلکار کسی بھی مشتبہ شخص کو 15 دن کے لئے بغیر کسی مقدمے یا جج کے سامنے پیش کئے حراست میں رکھ سکتے ہیں۔
اس بل کی مدد سے مشتبہ افراد کے فون کی جاسوسی کرنے میں آسانی ہوگی اور دہشت گردی کی آزادانہ حمایت قابل سزا عمل قرار دے دیا گیا ہے۔