.

بحرین : ایران سے وابستہ پانچ مشتبہ دہشت گرد گرفتار

گرفتارافراد کی نشان دہی پر بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد اور آتشین اسلحہ برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین میں گذشتہ ماہ پولیس اہلکاروں پر بم حملے کے الزام میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔بحرین کی وزارت داخلہ نے جمعرات کو ان گرفتاریوں کو تصدیق کی ہے۔

وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان مشتبہ افراد کو پاسداران انقلاب ایران اور شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے عراق میں عسکری تربیت دی تھی اور انھوں نے دوران تفتیش فوجی تربیت کے علاوہ ایران سے رقوم وصول کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

28 جولائی کو بحرین کے ایک گاؤں سترہ میں لڑکیوں کے اسکول کے باہر بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور چھے افراد زخمی ہوگئے تھے۔یہ بحرین میں گذشتہ کئی ماہ کے بعد پہلا بم دھماکا تھا۔اس سے پہلے مارچ 2014ء میں ایک بم دھماکے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی ملک میں تخریب کاری کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔بحرین کے پولیس سربراہ میجر جنرل طارق الحسن نے ان گرفتاریوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''پولیس تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار افراد کا پاسداران انقلاب ایران اور حزب اللہ سے تعلق تھا اور وہ بحرین میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوّث تھے''۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ''سترہ میں بم دھماکے کی جگہ کے فورنزک ٹیسٹ سے یہ پتا چلا ہے کہ وہاں خطرناک دھماکا خیز مواد سی 4 استعمال کیا گیا تھا۔اس ایک اور واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران بحرین کی قومی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے''۔

میجر جنرل طارق الحسن کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کی دوران تفتیش نشان دہی کے بعد سی 4 مواد سے بنائے گئے تیار حالت میں بم اور بم سازی میں استعمال ہونے والا مواد، ریموٹ کنٹرول ،آتشیں ہتھیار اور دوسرا سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔