تیونس:سوسہ میں مسلح افراد کی فائرنگ، ایک پولیس اہلکار ہلاک
تیونس کے مشہور سیاحتی شہر سوسہ میں موٹر سائیکل پر سوار دو جنگجوؤں نے فائرنگ کرکے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا ہے۔
ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار دو جوانوں نے سوسہ میں اچانک پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس سے ایک اہلکار ہلاک ہوا ہے۔واقعے کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔
سوسہ تیونس کا مشہور ساحلی سیاحتی مقام ہے اور یہاں غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد چھٹیاں منانے کے لیے آتی ہے۔سوسہ میں ایک ہوٹل کے احاطے میں جون میں ایک مسلح شخص نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں اڑتیس افراد ہلاک اور انتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں جرمن ،برطانوی اور بیلجئین سیاح شامل تھے ۔
تیونس میں غیرملکی سیاحوں پر اس سال یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔اس سے پہلے دارالحکومت تیونس کے مشہور باردو عجائب گھر کے باہر سیاحوں کی بس پر 18 مارچ کو مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔اس واقعے میں غیرملکی سیاحوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے تیونس کے اس تاریخی عجائب گھر پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔
تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ سوسہ اور باردو میوزیم پر حملے کرنے والوں نے گذشتہ سال کے آخر میں پڑوسی ملک لیبیا کے بد امنی کا شکار جنوبی سرحدی علاقے میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔ لیکن حکام اور ان کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اپنے گھروں ہی میں مقامی مساجد یا انٹرنیٹ کے ذریعے کٹڑ نظریات کی جانب راغب ہوئے تھے اور اس کے بعد جہاد کی تربیت کے لیے لیبیا گئے تھے۔
لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اقتدار میں ہیں جس کی وجہ سے جنگجوؤں کو بھی وہاں درآنے کا موقع مل گیا ہے اور عراق اور شام میں برسرپیکار شدت پسند جنگجو گروپ داعش سے وابستہ جنگجو بھی وسطی شہر سرت اور دوسرے علاقوں میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں۔تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ تین ہزار سے زیادہ تیونسی جنگجو اس وقت عراق اور شام میں داعش یا دوسرے گروپوں کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔ان کے علاوہ لیبیا میں بھی ان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔