داعشی 'سائبر خلافت' کا رہنما امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اور یورپی عہدیداروں کے مطابق دولت اسلامی عراق وشام 'داعش' کی صفوں میں شامل برطانوی ہیکر شام میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

یہ پچھلے آٹھ دنوں کے دوران کسی بھی سینئر داعشی رہنما کی ہلاکت کی دوسری خبر ہے۔ اس سے پہلے 18 اگست کو ایک امریکی فضائی حملے کے نیتجے میں داعش کا نائب سربراہ ہلاک ہوگیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں رہنے والے جنید حسین کو نشانہ بنانے والی اس کارروائی میں امریکی محکمہ دفاع نے براہ راست حصہ لیا تھا۔

ایک آن لائن رپورٹ کے مطابق یہ حملہ منگل کے روز شام میں رقہ کے نزدیک کیا گیا۔ 21 سالہ حسین پچھلے دو سال کے دوران کسی وقت میں شام منتقل ہوگیا تھا۔

امریکا اور یورپی حکومتوں کے ذرائع نے خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' کو بتایا ہے کہ حسین کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ سائبر خلافت نامی ہیکنگ گروپ کا سربراہ تھا جس نے ماہ جنوری میں پینٹاگون کے ٹویٹر اکائونٹ پر حملہ کیا تھا۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جنید حسین کی ہلاکت کی خبر کے بارے میں پر اعتماد ہیں مگر کچھ لوگ اس موقف سے اختلاف رکھتے ہیں۔ دو داعشی ٹوِیٹر اکائونٹس کے مطابق حسین کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ زندہ ہے۔

حسین کو سال 2012ء کے دوران سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی ایڈریس بک چرانے کے الزام میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

حسین ابھی حال ہی میں امریکی قیادت کی نظر میں آیا تھا۔ مگر ذرائع نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ وہ امریکا کی ڈرون ٹارگٹ لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھا۔ ذرائع کے مطابق اس سے پہلے کئی داعشی رہنما ہیں جنہیں نشانہ بنانا زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں