.

ایرانی خطرہ:امریکی صدر شاہ سلمان کی تشویش دور کریں گے

امریکا خلیجی ممالک کو ایران کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے امداد دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واَئٹ ہاؤس کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے اپنی آیندہ ملاقات میں انھیں ایران سے درپیش کسی ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے مدد کی یقین دہانی کرائیں گے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز جلد امریکا کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے۔جنوری میں سعودی تخت پر فائز ہونے کے بعد ان کا امریکا کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہ نما اس ملاقات میں ایران سے جوہری معاہدے کے مضمرات کے علاوہ توانائی کی عالمی مارکیٹ اور یمن اور شام میں جاری بحرانوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادی ایران کی مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام کے تنازعے پر جولائی میں ڈیل طے پانے کے بعد سے اپنے شکوک کا اظہار کررہے ہیں اورانھیں یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ ایران مغربی پابندیوں کے خاتمے کے بعد خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مزید سرگرمیوں میں ملوّث ہوسکتا ہے۔

اوباما انتظامیہ سعودی فرمانروا کے دورے کو ان خدشات کو دور کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔صدر اوباما کے قومی سلامتی کے نائب مشیر بن رہوڈز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کو ایران پر عاید عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد کی صورت حال پر تشویش لاحق ہے''۔

انھوں نے کہا:''امریکا کو یقین ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے نتیجے میں اپنے غیر منجمد ہونے والے اثاثوں کو اپنی لڑکھڑاتی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرے گا''۔

تاہم مسٹر رہوڈز نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ایران ان غیرمنجمد ہونے والے فنڈز کو ''شرپسندانہ سرگرمیوں'' کے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے مگر صدر اوباما یہ واضح کردیں گے کہ وہ ایران سے اس کے ہمسایہ ممالک کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کو تیار ہوں گے۔

خلیجی عرب ریاستیں ایران پر یمن ،شام اور عراق میں فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کو ہوا دینے کے الزامات عاید کررہی ہیں۔اوباما انتظامیہ ان ریاستوں کی تشویش کو دور کرنے کے لیے ان کی عسکری امداد پر توجہ مرکوز کررہی ہے اور انھیں میزائل دفاعی نظام مہیا کرنے کے علاوہ خطے میں سائبر اور میری ٹائم سکیورٹی کو بھی بڑھا رہی ہے۔