سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے امریکا سے تعاون کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

انھوں نے یہ بات اوول آفس ،وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر براک اوباما سے جمعہ کو ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے مختصر گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کو امریکا کو مزید کاروباری مواقع مہیا کرنے چاہئیں۔

قبل ازیں امریکی صدر نے کہا کہ وہ شاہ سلمان سے ملاقات میں یمن میں جاری بحران ،ایران سے جوہری ڈیل اور دوسرے موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔انھوں نے کہا کہ وہ اور شاہ سلمان یمن میں انسانی بحران کے حل اور ایران کی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے حوالے سے سرگرمیوں کے بارے میں یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سعودی شاہ سے ملاقات میں عالمی مارکیٹ میں جاری توانائی کے بحران کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔عالمی مارکیٹ میں حالیہ مہینوں کے دوران تیل کی فی بیرل قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شاہ سلمان اور صدر براک اوباما سربراہ ملاقات میں ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی میں طے شدہ جوہری معاہدے کے علاوہ شام اور یمن میں جاری بحران ،دہشت گردی اور دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔شاہ سلمان کا جنوری میں سعودی تخت سنبھالنے کے بعد امریکا کا یہ پہلا دورہ ہے۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکا پہنچنے کے بعد سب سے پہلے وزیرخارجہ جان کیری سے بات چیت کی تھی۔ان دونوں کے درمیان واشنگٹن کے نواح میں واقع میری لینڈ میں اینڈریوزائیرفورس بیس پر ملاقات ہوئی تھی۔جان کیری نے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر سے بھی امریکی محکمہ خارجہ میں دورے کے ایجنڈے کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی(ایس پی اے) کے مطابق انھوں نے خطے کی تازہ صورت حال اور اہم علاقائی اور عالمی امور کے علاوہ دوطرفہ تعلقات بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر براک اوباما کے قومی سلامتی کے نائب مشیر بن رہوڈز نے العربیہ نیوزچینل سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''شاہ سلمان ایک اہم مرحلے پر یہ اہم دورہ کررہے ہیں۔اس وقت خطے میں بیک وقت بہت سی پیش رفتیں ہورہی ہیں اور اس ضمن میں ہمارا اور سعودی عرب کا مفاد مشترک اور موقف یکساں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدہ ایک خصوصی معاملہ ہے۔میرے خیال میں ہم نے ہمیشہ یہ بات تسلیم کی ہے کہ سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستوں کو ایران کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔خاص طور پر انھیں ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد کی صورت حال پر تشویش ہے کیونکہ اگر ایران کی معیشت بہتر ہوتی ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ اپنے ہمسایہ ممالک میں زیادہ جارح طرز عمل اپناتا ہے یا نہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم اپنے ان اتحادی ممالک کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اگر ہم جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو تب بھی ہم ان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے اور ان کی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کریں گے''۔

بن رہوڈز نے شام میں جاری بحران کے حوالے سے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ ''ایران کی جانب سے اسد رجیم کی مسلسل حمایت اس امن اور استحکام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے،جس کے شامی عوام حق دار ہیں۔اس لیے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ہر معاملے میں اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔اس جوہری ڈیل کا مقصد تو ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ خطے میں ایرانی پالیسیوں کے بارے میں ہمارے اختلافات برقرار رہیں گے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں