.

سعودی عرب نے یمن کو برسوں کی خانہ جنگی سے بچا لیا:نائب صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جلاوطن نائب صدر خالد بحاح نے جنوبی شہر عدن کو آیندہ پانچ سال کے لیے وفاقی دارالحکومت بنانے سے متعلق اطلاعات کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب نے ان کے ملک کو برسوں کی خانہ جنگی سے بچا لیا ہے۔

انھوں نے العربیہ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ''یمنی حکومت عدن اور صنعا دونوں میں کام کرنے کا عزم رکھتی ہے''۔انھوں نے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اس وقت متعدد وزراء یمن میں موجود ہیں۔تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

انھوں نے جنوبی یمن سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کی ایک کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک کے جنوبی حصے کی قسمت کا فیصلہ کیا جاسکے۔خالد بحاح نے دارالحکومت صنعا میں صورت حال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوثی باغی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی اس شہر کی تباہ کے ذمے دار ہیں۔

انھوں نے یمن کے شمالی شہر حضرموت میں القاعدہ کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت بہت جلد وہاں موجود انتہا پسند گروپوں کو نکال باہر کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

خالد بحاح نے انٹرویو میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری آپریشن فیصلہ کن طوفان کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے اور کہا کہ اس اتحاد کی مداخلت کی بدولت یمن برسوں کی خانہ جنگی سے بچ گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حوثی باغیوں کے خلاف ''آپریشن سنہرا تیر'' کے نام سے کارروائی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی،جب تک حکومت یمن کی تمام گورنریوں پر اپنا کنٹرول دوبارہ حاصل نہیں کر لیتی ہے۔

یمن کے نائب صدر نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حوثیوں نے رواں سال کے اوائل میں صنعا میں ان کی نظربندی کے دوران انھیں اپنے ساتھ ملانے اور تعاون کی پیش کش کی تھی لیکن انھوں نے اس کو مسترد کر دیا تھا۔

حوثی باغیوں نے صنعا میں جنوری میں صدارتی محل پر قبضے کے بعد تب وزیراعظم خالد بحاح اور ان کی کابینہ کے بعض وزراء کو ان کے گھروں پر نظر بند کردیا تھا اور انھیں دوماہ کے بعد چھوڑا گیا تھا یا پھر وہ خود ہی ان کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

قبل ازیں ستمبر 2014ء میں یمن کے شمالی علاقوں سے تعلق رکھنے والے حوثی شیعہ باغیوں نے صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔انھوں نے اس کے بعد ملک کے جنوبی شہروں کی جانب یلغار کردی تھی اور عدن سمیت ان شہروں سے بھی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کو نکال باہر کیا تھا۔

عدن پر صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے جولائی میں دوبارہ قبضہ کیا تھا اور وہاں سے حوثی شیعہ باغیوں کو سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فضائی قوت کی مدد سے نکال باہر کیا تھا۔عدن 1990ء تک جنوبی یمن کا دارالحکومت رہا تھا اور اسی سال جنوبی اور شمالی یمن کے درمیان اتحاد کے بعد وہاں سے چار سو کلومیٹر شمال میں واقع صنعا کو متحدہ یمن کا دارالحکومت بنایا گیا تھا۔