روس کی داعش مخالف کارروائی سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا:پوتین
روسی صدر ولادی میرپوتین نے کہا ہے کہ شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں کے حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ شام میں روسی فوجیوں اور طیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لے رہا ہے۔
روسی صدر جمعہ کے روز مشرقی شہر ولاڈی واسٹک میں منعقدہ ایک بین الاقوامی اقتصادی فورم کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔انھوں نے داعش کے خلاف امریکا کے فضائی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور ان کا کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہورہا ہے۔
ان سے کسی صحافی نے جب یہ پوچھا کہ کیا روس داعش کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے گا۔اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ''اس وقت ہم مختلف آپشنز پر غور کررہے ہیں لیکن آپ جو بات کہہ رہے ہیں،یہ ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے''۔
روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ریا(آر آئی اے) کی رپورٹ کے مطابق صدر پوتین کہا کہ ''یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کہ ہم آج ہی یہ اقدام کرنے کو تیار ہیں لیکن ہم پہلے ہی شام کو سنجیدگی سے امداد مہیا کررہے ہیں،اسے دفاعی آلات مہیا کررہے ہیں اور اس کے فوجیوں کو ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دے رہے ہیں''۔ تاہم انھوں نے وضاحت کی ہے کہ شام کو پانچ سے سات سال قبل طے شدہ معاہدوں کے تحت فوجی سازوسامان مہیا کیا جارہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ شام میں روس کی فوجی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔اس نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ عدم استحکام کا سبب ہوگا اور اس کا جوابی ردعمل بھی ہوگا۔
روس اور امریکا کی جانب سے یہ بیانات سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آنے والی بعض تصاویر کے بعد سامنے آئے ہیں۔شامی باغیوں کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس پر شمال مغربی صوبے ادلب میں روس کے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی موجودگی کی اطلاع دی گئی ہے۔