.

یونان ،بلغاریہ نے روسی طیاروں کو فضا استعمال کرنے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی اوقیانوس کی تنظیم "نیٹو" کے رُکن ملک بلغاریہ اور یونان نے شام جانے والے روسی جنگی طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گذرنے سے روک دیا ہے۔ دونوں ملکوں کی جانب سے یہ اقدام امریکا کے اس شبے کی بنیاد پر کیا گیا ہے کہ روسی جنگی طیارے شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی مدد کو جا رہے ہیں۔

بلغارین وزارت خارجہ کی ترجمان بٹینا زوٹیفا نے عالمی خبررساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ روس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کے امدادی سامان سے لدے ہوائی جہاز شام جانا چاہتے ہیں مگر ہمیں مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ ہیں شام جانے والے روس کے طیارے مال بردار نہیں بلکہ جنگی جہاز ہیں جنہیں ہم اپنی فضاء سے گذرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔

قبل ازیں روسی وزارت خارجہ کی جانب سے بلغاریہ سے شام جانے والے طیاروں کو گذرنے کی اجازت مانگی تھی تاہم بلغاریہ اور یونان دونوں نے کسی قسم کی وضاحت کے بغیر روسی جہازوں کو گذرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

روسی خبر رساں ایجنسی "انٹرفیکس" نے نائب وزیرخارجہ میخائل بوگدانوف کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہمارے یونانی اور بلغاریہ اتحادیوں کی جانب سے ہمارے طیاروں پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔ ہمیں اپنے شبہات کے بارے میں تفصیلات بتائیں اور واضح کریں کہ طیاروں کے گذرنے میں کیا امر مانع ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں روس کی جانب سے شام میں اپنے جنگی طیاروں کی تعیناتی کے فیصلے کی خبریں منظرعام پرآئی تھیں، جس کے بعد بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کی حامی قوتوں بالخصوص امریکا نے اس پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اگرچہ روسی حکومت کا موقف ہے کہ وہ دولت اسلامی "داعش" کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی جنگی جہاز شام منتقل کررہا ہے۔ مگر خدشہ ہے کہ روسی طیارے داعش کے ساتھ ساتھ صدر اسد کے خلاف سرگرم اعتدال پسند اپوزیشن کی نمائندہ فوج کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔