مصر کی یمن میں بَری فوج کی تعیناتی کی تردید
#مصر کے ایوان صدر نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ #قاہرہ نے #یمن میں #سعودی_عرب کی قیادت میں جاری فوجی آپریشن کے تحت اپنی بری فوج کے 800 اہلکار بھیجے ہیں۔
اخبار "الحیاۃ" نے قاہرہ ایوان صدر کےایک مصدقہ ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمن میں مصر کی بَری فوج کے دستے تعینات کیے گئے ہیں اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ البتہ فضائیہ اور نیوی کے دستے اس آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔
درایں اثناء سعودی عرب اور #بحرین کے لیے مصر کے ملٹری اتاشی بریگیڈیئر جنرل محمد ابو بکر نے بتایا کہ کسی دوسرے ملک میں بَری فوج کی تعیناتی کے لیے آئین کے تحت پارلیمنٹ سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں بعض اخبارات نے یہ خبر شائع کی تھی کہ مصرنے بَری فوج کے 800 اہلکار یمن میں تعینات کیے ہیں جو خلیجی ممالک کے یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف زمینی آپریشن میں حصہ لیں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصر کی جانب سے یمن میں زمینی آپریشن کے لیے ٹینک، فوجیوں کے لیے ٹرانسپورٹ گاڑیاں اور دیگر سامان بھی بھیجا گیا ہے۔
-
یمن: حوثیوں کے میزائل حملوں میں 20 شہری جاں بحق
#یمن کے وسطی علاقے #مآرب میں حوثی باغیوں اور منحرف سابق صدر علی #عبداللہ_صالح کی ...
بين الاقوامى -
یمن کے وسطی صوبے مآرب میں عرب فوجی تعینات
العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق تین عرب ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور ...
بين الاقوامى -
حوثی اورعلی صالح 'جنگی مُجرم' ہیں: منصور ھادی
عالمی برادری یمن کی تعمیر نو میں مدد کرے
بين الاقوامى -
سعودی عرب نے یمن کو برسوں کی خانہ جنگی سے بچا لیا:نائب صدر
یمن کے جلاوطن نائب صدر خالد بحاح نے جنوبی شہر عدن کو آیندہ پانچ سال کے لیے وفاقی ...
بين الاقوامى -
عرب اتحادی فوج کا یمن کی الدیلمی ایئر بیس پر حملہ
صنعاء کے شمال میں واقع بیس پر حوثیوں کا قبضہ ہے
بين الاقوامى -
یمن کے لئے 221 ملین ڈالر کی ایمرجنسی سعودی امداد
مملکت سعودی عرب نے یمن میں امداد پہنچانے کے لئے صحت کی ایک بین الاقوامی انجمن کے ...
بين الاقوامى