تین شہید فلسطینی بیٹوں کی مامتا کا دُکھ !

فاطمہ الکسبہ اور شوہر کی حج کے لیے حجاز مقدس آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ویسے تو #فلسطین میں ہر دوسرا خاندان کسی نہ کسی شہید کا وارث ہے مگر بعض ماں باپ ایسے بھی ہیں جو وطن کی آزادی کے لیے اپنے ایک سے زیادہ جگر گوشوں کو قربان کرنے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ صہیونی ریاست کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں اپنے بیٹوں سے محروم ہونے والی مائوں میں 50 سالہ فاطمہ الکسبہ کی داستان بھی دیگر شہیدوں کی مائوں سے مختلف اور کم دردناک نہیں۔ اس کے تین بیٹے صہیونی سفاکیت کی بھینٹ چڑھے جن کی یاد میں ان کی ماں پوری زندگی دکھ کی سولی پر لٹکی رہے گی۔

اگرچہ خادم الحرمین الشریفین #شاہ_سلمان بن عبدالعزیزکی جانب سے فاطمہ کا دکھ بانٹنے کے لیے اس کے شوہر سامی الکسبہ سمیت انہیں سرکاری انتظام کے تحت #حج کے لیے مدعو کیا ہے جس کے بعد وہ حجاز مقدس پہنچے ہیں مگر فاطمہ کو چھن جانے والے اپنے تینوں لخت جگر کی رہ رہ کر یاد ستاتی ہے کہ اس کی آنکھوں سے اشکوں کی لڑی ہر وقت جاری رہتی ہے۔

فاطمہ الکسبہ کا رہائشی تعلق شمالی #بیت_المقدس میں قلندیا پناہ گزین کیمپ سے ہے۔ اس کی دکھ بھری داستان اس کی عمر سے بھی بڑی ہے کیونکہ ارض فلسطین میں صہیونی ریاست کے قیام کے وقت اس کے آبائو اجداد کو اپنے گھربار چھوڑ کر بیت المقدس کے ایک عارضی مہاجر کیمپ میں رہنا پڑا۔

فاطمہ تین جواں سال شہید بیٹوں محمد، سامراور یاسر کی ماں ہیں۔ صہیونی فوج نے یاسر کو اس کی ماں سے اس وقت چھینا جب یاسر کی عمر محض 15 سال تھی جب کہ سامر 17 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کرگیا۔ تیسرے بیٹے محمد کی عمر بھی زیادہ نہیں تھی۔ صوم و صلاۃ کے پابند اور مسجد اقصیٰ سے والہانہ عشق رکھنے والے بیٹے محمد کو صہیونی درندوں نے پچھلے رمضان المبارک میں گولیاں مار کر اس کے ماں باپ سے چھین لیا۔

فاطمہ الکسبہ نے حجاز مقدس آمد کے بعد العربیہ ڈاٹ نیٹ سے اپنا دکھڑا بیان کیا۔ بات کرتے ہوئے اس کی آنکھوں سے اشکوں کی جھڑی رواں رہی۔ آہوں اور اشکوں میں فلسطینی مامتا نے اپنا دکھڑا یہاں سے شروع کیا" شہید بچوں کی یاد میں میرا اندر جل کر خاک ہوچکا ہے۔ پہلے دو بیٹوں یاسر اور سامر کی شہادت کے بعد محمد سے میں بہت زیادہ محبت کرنے لگی تھی۔ محمد کی شہادت نے میرا جگر چھلنی کردیا۔ وہ میری آنکھوں کی ٹھنڈگ، میرا بہت ہی چہتا بیٹا اور میری زندگی تھی."

شہیدوں کی ماں نے بتایا کہ یاسر اور سامر کی شہادت کے درمیان صرف 40 دن کا فرق ہے۔ سامر کو ہم سے چھینا گیا تو عید کا دن تھا۔ محمد ابھی چھوٹا تھا۔ مگر وہ تیزی کے ساتھ بڑا ہوا، جوان ہوا۔ وہ مزاحمت کے جذبات سے لبریز تھا۔ نماز روزے کی سختی سے پابندی کرنے والا۔ عمرہ کی سعادت حاصل کرکے لوٹا تو کہنے لگا میں اب بیت اللہ شریف کا حج بھی کروں گا۔ کم عمری ہی میں اسے حج کا شوق۔ وہ ہمیشہ میرے قریب قریب رہتا۔ میں اسے حج کرانے کے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔

آج ہم تو حج کرنے اللہ کے گھر پہنچ چکے ہیں مگر میرے تینوں میں سے ایک بیٹا بھی میرے ساتھ نہیں ہے۔ اللہ خادم الحرمین الشریفین کی عمر دراز کرے جنہوں نے ہمیں حج کا موقع دیا۔ اب ہم اپنی طرف سے اور اپنے بیٹے محمد کی طرف سے بھی حج کریں گے۔ وہ اپنی زندگی میں اپنی یہ خواہش پوری نہیں کرسکا مگر ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حج کا ثواب اسے بھی پہنچائیں گے۔

حج کی بات کرتے ہوئے فاطمہ نے بار بار سعودی عرب کی حکومت اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور خادم الحرمین الشریفین نے فلسطینیوں کے ساتھ ہمیشہ خصوصی شفقت اور مہربانی کا مظاہرہ کیا اور شہداء کے لواحقین کو حج کراکے ان کے دکھ بانٹںے کی کوشش کی۔

تیسرے اور آخری شہید بیٹے محمد کی یاد پھرستانے لگی تو بولی۔ شہید بیٹے محمد کی عادت تھی کہ وہ ماہ صیام میں تمام تراسرائیلی رکاوٹوں اور دیوار فاصل کے باوجود تمام نمازیں مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کی کوشش کرتا۔ جب اسے شہید کیا گیا تو وہ نماز جمعہ کی تیاری کررہا تھا۔ میرے گھر کے آنگن میں بچے کھیلتے تو زندگی میں بہار سی آجاتی مگر اب تو پورا گھر ویران خانہ ہے۔ مگر اس بات کا فخر بھی ہے کہ میں تین شہید بچوں کی ماں ہوں۔

تین شہید بیٹوں کے باپ کے جذبات بھی ان کی ماں سے مختلف نہیں۔ سامی الکسبہ نے کہا کہ "یہ قصہ کسی ایک ماں یا باپ یا نہیں بلکہ پوری فلسطینی قوم کا اجتماعی المیہ ہے۔ ہم اپنے ارض مقدس کے لیے اپنا اور بچوں کا خون پیش کرتے ہیں۔ خون کے نذرانے پیش کرتے ہوئے ہماری تیسری نسل ختم ہو رہی ہے۔ ہم بھی دنیا کی دیگر اقوام کی طرح امن و آشتی کی زندگی جینا چاہتے ہیں مگر ایک قابض اور غاصب ریاست کے تسلط کے ہوتے ہوئے آزادی اور امن کی نعمت کہاں میسر آسکتی ہے۔

سامی الکسبہ کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم شہداء کے ماں باپ ہیں۔ دشمن ہمیں اور ہمارے بچوں کو تخریب کار اور شرپسند سمجھتا ہے، مگر ہم کہتے ہیں کہ وہ شہداء تھے جنہوں نے اپنا لہو اپنے وطن اور مقدسات کے لیے بہادیا۔ انہوں نے بھی شاہ سلمان کی جانب سے خصوصی حج کا موقع دینے پران کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور ان کی لمبی عمر کی دعا کی۔

اس موقع پرشہداء کی والدہ نے کہا کہ میں مکہ مکرمہ کے درو دیوار میں اپنے تینوں شہید بیٹوں کا عکس دیکھتی ہیوں۔ وہ میرے ساتھ حج اور طواف کرتے ہیں، رمی جمرات میں میرے ساتھ ہوں، میرے ساتھ سعی کریں گے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے پچھلے چند برسوں کے دوران 14000 افراد کو سرکاری خرچے پر فریضہ حج ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ خادم الحرمین الشریفین کی ہدایت پر فلسطین سے ہر سال شہداء کے ایک ہزار ورثاء کو حج کرایا جاتا ہے۔ ان کے حج کے تمام مصارف خادام الحرمین الشریفین کی جانب سے ادا کیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور مہمان حجاج کرام کو ہرممکن سہولت فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں