.

پوپ فرانسس امریکا اور کیوبا کے تاریخی دورے پر روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا #پوپ_فرانسس نے #کیوبا اور #امریکا کا دس روزہ تاریخی دورہ شروع کیا ہے۔ یہ دورہ پوپ فرانسس کی جانب سے سرد جنگ کے زمانے میں حریف رہنے والے ممالک کے درمیان تاریخی مفاہمت میں خفیہ طور پر ثالث کا کردار ادا کرنے کے بعد کیا جارہا ہے۔

لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے پہلے پاپائے روم امریکی کانگریس سے خطاب کرنے والے پہلے عیسائی پیشوا بن جائیں گے اور وہ امریکا کی سرزمین پر سب سے پہلے عیسائی ولی کا اعلان کریں گے۔

ہفتے کے روز کیوبا کے دارالحکومت #ہوانا میں آمد کے موقع پر پوپ فرانسس کا استقبال صدر رائول #کاسترو نے خود کیا۔ کیوبا میں پچھلے 17 سالوں کے دوران تیسرے پوپ کا دورہ ہے جو کہ کسی بھی ملک کے لئے غیر معمولی ریکارڈ ہے۔

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے 78 سالہ پوپ فرانسس نے اس سے پہلے کبھی اس خطے کا دورہ نہیں کیا ہے اور انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ امریکا ان کے لئے اتنا زیادہ اجنبی تھا کہ انہوں نے پوری گرمیوں میں اس سے متعلق معلومات اکٹھی کی ہیں۔ امریکا میں ان کی مقبولیت کافی زیادہ ہے مگر انہوں نے اپنے دور کے دوران کئی ناقدین بھی بنا لئے ہیں جنہیں ان کی سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید پر شکوہ ہے۔

کیوبا کی حکومت پاپائے روم کے استقبال کے لئے کافی کوششیں کررہی ہے۔ ان کوششوں میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کو ایک دن کی تنخواہ اور ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی گئی ہے تاکہ لوگ ہوانا کا رخ کریں اور پوپ فرانسس کے روٹ پر آکر ان کا شاندار استقبال کریں۔

ویٹیکن کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ امریکا اور کیوبا کے درمیان مفاہمتی منصوبے کے بعد امریکا کی جانب سے عائد تجارتی پابندیاں بھی اٹھا لی جائینگی۔ مگر پوپ کے ایک قریبی معاون کے مطابق پوپ کے اس دورے کا مقصد "کیوبا میں عیسائیوں کی روحانی رہنمائی ہے نہ کہ کوئی سیاسی ایجنڈا۔"

پوپ فرانسس 22 ستمبر کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پہنچیں گے جہاں پر امریکی صدر اپنے خاندان کے ہمراہ ان کا استقبال کریں گے۔

امریکا کے دورے کے دوران پوپ فرانسس امریکا میں رہنے والے ہسپانوی باشندوں پرخاص طور پر اپنی توجہ دیں گے جو کہ امریکی یونیورسٹی کے مطابق امریکا میں موجود مسیحیوں کی کل تعداد کا 38 فیصد ہیں۔

فرانسس اپنے دورے کے دوران اپنی زیادہ تر تقاریر ہسپانوی زبان میں کریں گے۔ وہ کئی مواقع پر امریکا میں موجود تارکین وطن سے ملاقات کریں گے اور ہسپانوی مسیحیوں کو عزیز ایک لکڑی کی صلیب کو اپنی آشیرباد دیں گے۔ اس کے علاوہ ہسپانوی نژاد جونیپرو سیرا کو فہرست اولیاء میں شامل بھی کیا جائیگا جنہون نے 18 ویں صدی میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں کئی مسیحی مشن قائم کئے۔

پوپ فرانسس اس دورے کے دوران امیگریشن کو اپنا موضوع بحث بنائیں گے۔ فرانسس نے اس سے پہلے کئی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بہتر زندگی کی تلاش میں آنے والے مہاجرین کا استقبال کریں۔

پوپ فرانسس اس دورے کے دوران امریکا میں مذہبی آزادی کے موضوع پر بھی کئی اہم معاملات پر بات کریں گے جن میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت اور امریکی مسیحی مشن کی جانب سے اوباما انتظامیہ کے ہیلتھ کئیر پلان میں برتھ کنٹرول پروگرام کی مخالفت شامل ہے۔