اوباما ۔ پوتن ملاقات کے متفقہ اور اختلافی نقاط کیا ہیں؟

ملاقات میں شامی بحران کا پرامن حل تلاش کرنے پر اتفاق رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی تازہ ملاقات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق دونوں رہ نمائوں نے یوکرائن اور شام کے بحران پرامن طریقے سے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم 90 منٹ جاری رہنے والی ملاقات میں دونوں میں کئی اہم عالمی مسائل پر اختلافات بھی برقرار رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صدر اوباما اور پوتن کے درمیان جاری رہی ڈیڑھ گھنٹے کو محیط بات چیت میں یوکرائن اور شام کے موضوعات سر فہرست رہے۔ اس موقع پر صدر ولادیمیر پوتن نے شام کے مستقبل میں صدر بشارالاسد کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے پر زور دیتے ہوئے انہیں انتہا پسندوں کے خلاف اپنا مضبوط اتحادی قرار دیا، جبکہ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کا شام کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اپنی قوم کے قتل عام اور ملک میں انتہا پسندی کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ البتہ دونوں رہ نمائوں نے شام کا بحران پرامن طریقے سے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شام میں امریکی فوج اور بھاری اسلحہ کی موجودگی کو امن عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھتا۔ اگر روس اپنی فوج اور اسلحہ کو "داعش" کی سرکوبی کے لیے استعمال کرے تو واشنگٹن اس کا خیر مقدم کرے گا تاہم اگر ماسکو صدر بشارالاسد کو عسکری طور پر مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا تو امریکا کو لازما اس سے تشویش ہو گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے دونوں صدور کی ملاقات کو "مثبت" اور مفید قرار دیا۔ تاہم ملاقات کے دوران ہوئی بات چیت کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ شام کے معاملے میں صدر اوباما اور ولادیمیر پوتن کے درمیان کئی نکات پر اختلافات برقرار رہے۔ امریکا روس کو داعش کے خلاف جنگ میں اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے جب کہ صدر پوتن کی کوشش صدر بشارالاسد کی حکومت بچانے پر مرکوز ہے۔

دونوں رہ نمائوں نے ملاقات نے دوران اس امر سے اتفاق کیا کہ شام کے معاملے پر روس اور امریکا کی فوج کو باہم متصادم ہونے کے تمام امکانات کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ امریکی حکومتی عہدیدار سے جب روس اور عراق کے درمیان انٹیلی جنس تعاون کے بارے میں استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ روس ایک عرصے سے شام اور ایران کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرتا رہا ہے تاہم عراق میں اس کے مفادات اتنے وسیع نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں