.

شام پر داغے 4 میزائل ایران میں جا گرے: امریکا

نیٹو ضرورت پڑنے پر اتحادیوں کے دفاع کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی عہدیدار نے جمعرات کے روز بتایا کہ روس سے شامی اہداف پر داغے جانے والے چار بین الاعظمی میزائل ایران میں جا گرے۔

امریکی عہدیدار نے معاصر 'سی این این' کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'چار میزائل گذشتہ روز ایران میں گرے۔"

دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے امریکی موقف کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ بحیرہ کیسپئن میں موجود جہاز سے داغے جانے والے میزائل شام میں اپنے اہداف پر گرے۔

درایں اثنا معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ ان کا فوجی اتحاد ترکی کی جنوبی سرحد پردرپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے فوجی دستے بھیجنے کو تیار ہے۔

انھوں نے برسلز میں نیٹو کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اتحاد ترکی سمیت تمام اتحادیوں کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں ان کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ترکی سمیت جنوب میں خطرے سے نمٹنے کے لیے نیٹو نے پہلے ہی اپنی صلاحیت میں اضافہ کردیا ہے اور فوجی تیاریوں سے لے کر فورسز کی تعیناتی تک ردعمل ظاہر کیا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کے فضائی اور کروز میزائلوں کے حملے ان کے لیے تشویش کا سبب ہیں۔سیکریٹری جنرل نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ افغانستان میں نیٹو فوجیوں کی تعداد کے تعیّن کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ روس کے لڑاکا طیاروں نے شام میں بشارالاسد کی حکومت کے مخالف باغی گروپوں کے خلاف کارروائی کے دوران اسی ہفتے دو مرتبہ ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔روس نے گذشتہ ہفتے کے روز دراندازی کے پہلے واقعے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس کا ایک طیارہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے مختصر وقت کے لیے ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا لیکن نیٹو نے روس کی اس وضاحت کو مسترد کردیا تھا اور اپنے رکن ملک ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی تھی۔

نیٹو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ''اتحادی ترکی کی خودمختار فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کرتے ہیں اور وہ نیٹو کی فضائی حدود میں دراندازی کی مذمت کرتے ہیں۔اتحادیوں نے اس طرح کے غیر ذمے دارانہ طرزعمل سے لاحق سنگین خطرے کو بھی نوٹ کیا ہے''۔

روس کے لڑاکا طیارے 30 ستمبر سے شام میں مبینہ طور پر داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ ترکی اور امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک اس فضائی مہم کی مخالفت کررہے ہیں۔ان ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے اپنے فضائی حملوں میں داعش کو ہدف بنانے کے بجائے شامی حزب اختلاف سےوابستہ باغی گروپوں کے ٹھکانوں اور عام شہریوں پر بمباری کر رہے ہیں۔