.

روس کی فوجی مداخلت بشارالاسد کو نہیں بچا سکے گی: اولاند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے کہا ہے کہ روس کی فوجی مداخلت بھی شامی صدر بشارالاسد کے اقتدار کو بچا نہیں سکے گی۔

انھوں نے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کے بعد جمعہ کو علی الصباح نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''یہ بات بالکل واضح انداز میں کہی جارہی ہے کہ بشارالاسد کا مستقبل نہیں ہوسکتا۔ہمیں جتنا جلد ممکن ہو،شام میں سیاسی انتقال اقتدار کے لیے آگے بڑھنا ہوگا''۔

انھوں نے کہا کہ ''روس کی بشارالاسد کے دفاع کے نقطہ نظر سے فوجی مداخلت ان کی حکومت کو تو تقویت پہنچا سکتی ہے لیکن وہ ان کے اقتدار کو بچا نہیں سکے گی''۔قبل ازیں روس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے شام میں فضائی حملے کم کردیے ہیں کیونکہ شامی فوج باغیوں کے خلاف ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہی ہے۔

روسی طیاروں نے اپنے تازہ حملوں میں صوبہ دمشق ،ادلب ،حماہ، دیرالزور اور حلب میں باغیوں اور داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔روس نے 30 ستمبر کو شام میں بشارالاسد کی مسلح افواج کی مدد کے نام پر داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔

روس کی اس انداز میں فوجی مداخلت کے بعد شام میں داعش مخالف جنگ پیچیدہ صورت اختیار کرگئی ہے کیونکہ قبل ازیں امریکا کی قیادت میں بعض عرب اور مغربی ممالک کے لڑاکا طیارے بھی گذشتہ ایک سال سے داعش کے خلاف فضائی حملے کررہے تھے اور اب روسی طیارے بھی داعش کے علاوہ دوسرے باغی گروپوں کےاہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اس لیے ان کے لڑاکا طیاروں کے درمیان شام کی فضائی حدود میں تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

امریکا اور ترکی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ روسی لڑاکا طیارے داعش کے بجائے دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے داعش کے خلاف جنگ کمزور پڑرہی ہے اور اسدی فوج کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہورہی ہے۔ترکی ،امریکا اور بعض عرب ممالک شام کے اعتدال پسند باغی گروپوں کی حمایت کررہے ہیں۔ان کے برعکس روس اور ایران نے اپنے اتحادی بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجے ہیں اور شمالی شہر حلب پر دوبارہ کنٹرول کے لیے وہ ایک بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔