لبنان کے نئے صدر جوزف عون نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے اگلے ہفتے کے اوائل میں اراکین پارلیمنٹ سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کی تصدیق جمعہ کو لبنانی ایوان صدر کی جانب سے ایک اخباری بیان میں کی گئی۔
جوزف عون جو فوج کے سربراہ رہ چکے ہیں جمعرات کو لبنانی جمہوریہ کے صدر منتخب ہوئے۔ لبنان میں صدر کا عہدہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے پر دو سال سے زیادہ عرصہ خالی رہا ،جب کہ ملک شدید سیاسی اور اقتصادی بحرانوں سے دوچار رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے اثر و رسوخ میں کمی خاص طور پر حزب اللہ نے لبنان کے لیے ایک مضبوط صدر کے انتخاب کی اجازت دی ہے جسے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔
نئے صدر نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں اپنے انتخاب اور حلف برداری کے بعد خطاب میں حزب اللہ اسرائیل کے درمیان خونریز جنگ سے ابھرنے والے ملک کی خارجہ پالیسی میں توازن کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "لبنان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے"۔
انہوں نے ملک کو جلداز جلد سیاسی تعطل سے نکالنے اور نئے وزیراعظم کی تقرری کے عزم کا اظہار کیا۔
لبنان میں مرکزی جماعتوں بالخصوص حزب اللہ، امل موومنٹ اور ان کے مخالفین کے درمیان گہرے سیاسی اختلافات کی وجہ سے عام طور پر کسی وزیر اعظم کاے نام پر اتفاق پر مہینوں لگ جاتے ہیں۔
جمعہ کو ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے "۔صدر جمہوریہ جنرل ریٹائرڈ جوزف عون پیر 13 جنوری 2025 ء نئی حکومت کی تشکیل کے لیے نامزد وزیر اعظم کے نام ک پر پارلیمانی مشاورت کریں گے۔
صدر آئینی طور پر وزیراعظم کے انتخاب کے لیے پارلیمانی مشاورت کے مطابق پابند ہیں اور جمہوریہ کا صدر ان سے مشاورت کی بنیاد پر نامزد وزیر اعظم کا تقرر کرے گا۔
لبنان میں جمہوریہ کے صدر کا تعلق مرونی فرقے سے ہے، وزیراعظم کا تعلق سنی فرقے سے اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔
ایک بار منتخب ہونے کے بعد نئے وزیر اعظم کو حکومت بنانا ہو گی۔
نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی کو بڑے پیمانے پر سب سے آگے دیکھا جاتا ہے، لیکن سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے رکن پارلیمان فواد مخزومی کو متعدد قانون سازوں کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔