.

صدر بن کر امریکا میں مساجد بند کر دوں گا: ٹرامپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے 2016ء کے صدارتی انتخابات میں جہاں بھانت بھانت کے صدارتی امیدوار اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں وہیں۔ وہیں امیدوار اپنا ووٹ بنک بڑھانے کے لیے متنازع نوعیت کے بیانات کا بھی سہارا لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متنازع بیان بازی میں ری پبلیکن پارٹی کے ایک امیدوار ڈنلڈ ٹرامپ پیش پیش ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ "میں امریکا میں صدر بنا تو ملک میں موجود تمام مساجد کو بند کرا دوں گا"۔

"فوکس بزنس" ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسٹر ٹرامپ نے "داعش" کے خلاف اپنی ممکنہ حکمت عملی کی وضاحت کر رہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ دولت اسلامی "داعش" کے خلاف کارروائی کے لیے کیا کریں گے تو انہوں نے چھوٹے ہی کہا کہ "مسجدیں بند کر دوں گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش کی صفوں میں بھرتی ہونے والے امریکیوں کی شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرامپ کے مساجد کو بند کرنے کے بیان پر امریکا میں مسلمانوں کی جانب سے سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی مسلمانوں کے علاوہ اعتدال پسند غیر مسلم اداروں اور شخصیات کی نےان کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتپ چند ماہ کے دوران امریکی صدارتی امیدواروں کی جانب سے انتہائی متنازع بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان میں ڈونلڈ ٹرامپ بھی سر فہرست ہیں۔ اپنے ایک سابقہ بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ پناہ گزینوں کی امریکا میں آمد روکنے کے لیے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنا دوں گا۔ اس کے علاوہ ان کا ایک دوسرا بیان تھا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام لیبیا کے سابق مقتول مرد آہن کرنل معمر قذٓافی اور عراق کے مصلوب لیڈر صدام حسین کے مرھون منت تھا۔