.

امریکی صدر بننے کا خواہشمند صدام اور قذاقی کا دیوانہ نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں صدارتی دوڑ میں شامل امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کبھی مساجد بند کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور اب انہوں نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ اگر آج عراق میں صدام حسین اور لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت ہوتی تو دنیا ایک بہتر جگہ ہوتی۔

ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ارب پتی تاجر ڈونالڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی مہمات کو ’شدید ناکامی‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مشرق وسطی کے بحران میں امریکی صدر براک اوباما اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی ناک کے نیچے مزید اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ ہلیری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا: ’لوگوں کے سر تن سے جدا کیے جا رہے ہیں، وہ ڈوب رہے ہیں۔ ابھی وہاں کا حال صدام حسین اور قذافی کو دور حکومت سے بہت بدتر ہے۔‘انھوں نے کہا: ’میرے کہنے کا مطلب ہے لیبیا شدید تباہی سے دو چار ہے۔ عراق بھی ناکامی ہے۔ شام بھی ناکامی ہے۔ تمام مشرق وسطی ناکامی ہے۔ یہ سب ہلیری کلنٹن اور اوباما کے رہتے ہوئے ہوا ہے۔‘

انھوں نے عراق کو ’ہارورڈ آف ٹیرارزم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق ہرقسم کے دہشت گردوں کی تربیت گاہ بن کر رہ گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا: ’اگر آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو آپ یہ پائیں گے کہ پہلے بہتر تھا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ صدام حسین اچھا آدمی تھا، وہ ایک خوفناک شخص تھا۔‘ انھوں نے صدر براک اوباما پر ملک کو تقسیم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ امریکیوں کو متحد کریں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2003 میں امریکا نے عراق پر حملہ کیا تھا اور اس وقت کے حکمراں صدام حسین کو عہدے سے ہٹا دیا تھا اور بعد میں سنہ 2006 میں صدام حسین کے پکڑے جانے کے بعد انھیں پھانسی دے دی گئی تھی۔

کرنل معمر قذافی نے لیبیا پر تقریبا چار دہائیوں تک حکومت کی انھیں سنہ 2011 میں باغی جنگجوؤں نے قتل کر دیا تھا۔ خیال رہے کہ لیبیا میں متحارب جنگجوؤں اور باغیوں کو امریکا اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔